UrduPoint:
2026-06-03@07:36:50 GMT

پاکستان کے نئے بجٹ میں نیا کیا ہو سکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

پاکستان کے نئے بجٹ میں نیا کیا ہو سکتا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 جون 2025ء) پاکستان آئندہ مالی سال کے لیے اپنے سالانہ وفاقی بجٹ آج منگل کے روز پیش کر رہا ہے، جس میں معاشی شرح نمو کو رفتار دینے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ گزشتہ ماہ بھارت کے ساتھ تنازع کے بعد دفاعی اخراجات میں متوقع اضافے کے لیے وسائل تلاش کرنے کی بھی کوشش ہو گی۔

یہ بجٹ ایک ایسے وقت پیش کیا جا رہا ہے جب اسلام آباد کو اپنے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کے نظم و ضبط کے اندر رہتے ہوئے معیشت کو بحال کرنا ہے۔

امریکہ پاکستان کے لیے سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور اس صورت میں واشنگٹن کی جانب سے نئے تجارتی محصولات کے نفاذ کی غیر یقینی صورتحال کا بھی اسے سامنا ہے۔

پاکستان: رواں مالی سال اقتصادی شرح نمو 2.

7 فیصد رہنے کی توقع

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حکومت ممکنہ طور پر یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے 17.6 ٹریلین روپے (62.45 بلین ڈالر) کا بجٹ پیش کرے گی، جو رواں مالی سال کے بجٹ سے 6.7 فیصد کم ہے۔

(جاری ہے)

اطلاعات کے مطابق حکومت نے جی ڈی پی (مجموعی گھریلو پیداوار) کے 4.8 فیصد کے مالیاتی خسارے کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ 2024-25 میں اس خسارے کا ہدف 5.9 فیصد تک تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس بار اپنے دفاعی بجٹ میں تقریباً 20 فیصد اضافے کی توقع ہے، جو ممکنہ طور پر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیوں سے پورا کیا جائے گا۔

پاکستان کا تقریباً انیس ٹریلین کا بجٹ، عوام کے لیے بھی کچھ ہے؟

پاکستان نے اپنے پچھلے بجٹ میں دفاع کے لیے 2.1 ٹریلین پاکستانی روپے (7.45 بلین امریکی ڈالر) مختص کیے تھے، جس میں دو بلین ڈالر کے عسکری آلات اور دیگر اثاثے بھی شامل تھے۔

اس بجٹ میں فوجیوں کے پنشن کے لیے اضافی 563 بلین روپے (1.99 بلین ڈالر) مختص کیے گئے تھے، جن کا شمار سرکاری دفاعی بجٹ میں نہیں کیا جاتا ہے۔

بھارت نے اپنے رواں سال کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے 78.7 بلین امریکی ڈالر کی رقم مختص کی تھی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 9.5 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں فوجیوں کی پینشن اور ہتھیاروں کے لیے 21 بلین ڈالر کی رقم بھی شامل تھی۔

بھارت نے بھی مئی میں پاکستان کے ساتھ تنازعے کے بعد دفاعی اخراجات میں اضافے کا اشارہ کیا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے 2025-26 میں 4.2 فیصد اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے معیشت کو مستحکم کیا ہے، جو حال ہی میں 2023 تک اپنے قرضوں کی ادائیگی کے خطرے سے دوچار تھی۔ گزشتہ سال کے بجٹ میں 3.6 فیصد کے ابتدائی ہدف کے مقابلے میں، رواں مالی سال میں شرح نمو 2.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

خطے میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار بہت کم ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق 2024 میں، جنوبی ایشیائی ممالک میں اوسطاً 5.8 فیصد کی شرح سے معیشتوں نے ترقی کی، جبکہ 2025 میں 6.0 فیصد کی شرح نمو کی توقع ہے۔

بلوچستان کی محرومیوں پر توجہ دیں گے، شہباز شریف

شرح سود میں کمی کافی نہیں

حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے سود کی شرح میں کمی کے بعد، قرض لینے کی لاگت میں تیزی سے کمی آنے کے سبب معیشت کی توسیع میں مدد ملنی چاہیے۔

لیکن ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے مقرر کردہ ایسی اصلاحات کے ہوتے ہوئے صرف مالیاتی پالیسی کا نفاذ کافی نہیں ہے، جو سرمایہ کاری پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کے روز کہا کہ وہ ماضی میں پاکستان کے عروج اور ٹوٹ پھوٹ کے چکر سے بچنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے جو میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا ہے، ہم بالکل اسی پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔

اس بار ہم بہت واضح ہیں کہ ہمیں موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔"

توقع ہے کہ بجٹ میں ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے، زراعت سے متعلق انکم ٹیکس کے قوانین کو نافذ کرنے اور صنعت کو دی جانے والی حکومتی رعایات کو کم کرنے کو ترجیح دی جائے گی، تاکہ گزشتہ موسم گرما میں دستخط کیے گئے آئی ایم ایف کے سات بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط کو پورا کیا جا سکے۔

ٹیکس حکام کے مطابق سن 2024 میں صرف 1.3 فیصد آبادی نے انکم ٹیکس ادا کیا، جس میں زراعت اور بیشتر خوردہ شعبہ ٹیکس نیٹ سے باہر رہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اصلاحات کے ذریعے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرے، جس میں زراعت، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس لگانا شامل ہے۔

گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس ایس اینڈ پی کے سینیئر ماہر اقتصادیات احمد مبین کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی توقع ہے کہ 2025-26 کے لیے محصول کا ہدف حاصل نہیں ہو پائے گا۔

پاکستان مہنگائی میں کمی کا ہدف پورا کرے، آئی ایم ایف

مبین نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ "یہ کمی اس لیے رہے گی، کیونکہ زیادہ تر اعلان کردہ اقدامات کا نفاذ نہیں ہو پاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی عام طور پر ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے، جو بامعنی ساختی اصلاحات چاہیں وہ بھی نہیں کی جاتی ہیں۔"

ص ز/ ج ا (روئٹرز)

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان کے بلین ڈالر مالی سال ایم ایف کی توقع توقع ہے کے لیے کیا ہے سال کے

پڑھیں:

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔

اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔

مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔

مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔

مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔

متعلقہ مضامین

  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم