منہ میں موجود بیکٹیریا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے، حیرت انگیز انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کنگز کالج لندن کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پارکنسنز (رعشے) کے مریضوں کے منہ اور پیٹ میں پائے جانے والے بیکٹیریا میں ہونے والی تبدیلیاں ان مریضوں میں ڈیمینشیا کے خطرے کی ابتدائی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ تحقیق میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے سائنسدانوں نے ان بیکٹیریل تبدیلیوں اور دماغی مسائل کے درمیان واضح تعلق دریافت کیا۔
الزائمرز سوسائٹی کے مطابق، پارکنسنز میں مبتلا افراد کا تقریباً ایک تہائی حصہ آخرکار ڈیمینشیا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تحقیق کی سربراہی کرنے والے کنگز کالج لندن کے ڈاکٹر سعید شعے کا کہنا ہے کہ انسان کے پیٹ اور منہ کے بیکٹیریا کا تعلق اعصابی بیماریوں کے ساتھ روز بروز واضح ہوتا جا رہا ہے۔
یہ مطالعہ جرنل گٹ مائیکروبز میں شائع ہوا ہے، جس میں تحقیق کاروں نے پارکنسنز کے 41 معتدل دماغی مسائل کا شکار مریضوں، 47 پارکنسنز اور ڈیمینشیا کے مریضوں اور 26 صحت مند افراد سے حاصل ہونے والے 228 تھوک اور فضلے کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ معالجین ان بیکٹیریل تبدیلیوں کو بطور “مارکرز” استعمال کرتے ہوئے ان مریضوں کی شناخت کر سکتے ہیں جن کے ڈیمینشیا میں مبتلا ہونے کے خطرات زیادہ ہوں۔
پارکنسنز ایک ارتقائی اعصابی بیماری ہے جو دماغ کو متاثر کرتی ہے اور جس کی علامات میں جسم کا کانپنا، ڈپریشن، توازن کا کھونا، نیند کے مسائل اور یادداشت کی خرابی شامل ہیں۔ یہ نئی تحقیق اس بیماری کے علاج اور روک تھام کے نئے راستے کھول سکتی ہے، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جن میں ڈیمینشیا کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔