بچوں میں جارحانہ رویے اور چیخنے چلانے کی وجہ اسمارٹ فونز کا استعمال، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اگر آپ کے بچے غصے میں آ کر چیختے چلاتے ہیں یا لاتیں مارنے جیسا رویہ اختیار کرتے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ ان کا اسمارٹ فونز اور دیگر اسکرینز کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا ہو سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق بچوں کا اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنا ان کے رویے میں بگاڑ، ذہنی مسائل اور سماجی کمزوریوں کا باعث بن سکتا ہے۔
تحقیق میں 10 سال سے کم عمر 117 بچوں کو شامل کیا گیا اور ان کی اسکرین ٹائم عادات اور رویوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جو بچے روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت اسمارٹ فون یا ویڈیو گیمز پر صرف کرتے ہیں، ان میں انزائٹی، ڈپریشن اور جارحانہ رویوں کا امکان کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔
مطالعے میں خاص طور پر بتایا گیا کہ2 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین کا ہر لمحہ منفی اثر رکھتا ہے،2 سے 5 سال کی عمر میں اگر بچے روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ اسکرین کے سامنے وقت گزارتے ہیں تو ان میں جذباتی بگاڑ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
6 سے 10 سال کے بچے اگر روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زائد اسمارٹ فون یا ویڈیو گیمز استعمال کرتے ہیں تو نہ صرف ان کے اندر غصہ اور چڑچڑاپن بڑھتا ہے بلکہ وہ جذبات کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اسمارٹ فونز پر گیمز کھیلنے والے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ یہ سرگرمی نہ صرف انہیں حقیقت سے دور کرتی ہے بلکہ ان کی سماجی مہارتیں اور ہمدردی جیسے جذبات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین والدین کو تجویز کرتے ہیں کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کریں اور انہیں حقیقی زندگی کی سرگرمیوں میں مشغول کریں تاکہ وہ بہتر جذباتی، ذہنی اور سماجی نشوونما حاصل کر سکیں۔
یہ تحقیق والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ اسمارٹ فونز بچوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ بچوں کی اسکرین سے دوستی کو متوازن بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمارٹ فونز کرتے ہیں
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔