غزہ میں جنگ بندی کے امکانات روشن ہیں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
کوالالمپور: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان کئی شرائط پر اتفاق ہو چکا ہے اور اب صرف عملدرآمد کے طریقہ کار پر بات باقی ہے۔
خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق روبیو نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اجلاس کے موقع پر ملائیشیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "ہم جنگ بندی کے قریب ہیں، بات چیت مثبت سمت میں بڑھ رہی ہے، اگرچہ ماضی میں اسی مرحلے پر مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔"
مارکو روبیو نے حماس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس غیر مسلح ہونے کی شرط مان لے تو یہ تنازع فوراً ختم ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل فلسطینی تنظیم حماس نے امن مذاکرات کے تحت 10 قیدیوں کی رہائی کی پیشکش کی تھی، لیکن تنظیم نے واضح کیا تھا کہ اب بھی کئی اہم نکات پر اختلافات باقی ہیں، جن میں شامل ہیں:
حماس نے کہا تھا کہ وہ ثالثوں کے ساتھ سنجیدگی اور مثبت جذبے سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔