کراچی میں شلوار قمیض پہنے شہری کو ریسٹورنٹ سے نکال دیا گیا، شہری کا عدالت سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
کراچی میں شلوار قمیض پہنے شہری کو ریسٹورنٹ سے نکال دیا گیا جس پر شہری نے عدالت سے رجوع کر لیا۔
شہری عبداللطیف ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ 18 مئی کو نجی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے۔ سب دوستوں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جس پر ریسٹورںٹ انتظامیہ نے شلوار قیمض کو ’چیپ ڈریسنگ‘ قرار دیا اور کہا کہ ہم اس ڈریس کوڈ پر کھانا فراہم نہیں کر سکتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ نے ہمیں کہا کہ ’تماشا نہ لگائیں ورنہ ہم آپ کو زبردستی یہاں سے نکالیں گے‘۔ شہری نے ریسٹورنٹ کے اس رویے پر کنزیومر کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کا چائینیز ریسٹورنٹ اس قدر زیادہ مشہور کیوں؟
عبداللطیف ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ریسٹورنٹ کے اس رویے سے ان کی عزتِ نفس مجروح ہوئی، ہم نے اپنی بے عزتی پر ریسٹورنٹ کو ہتک عزت کا نوٹس بھی بھیجا، لیکن انتظامیہ نے اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔
یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے گئے۔ ایک صارف نے ریسٹورنٹ کا نام ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔
Nam b tu bta do????????♀️restaurant ka
— fiz (@omemahi) July 11, 2025
حمزہ ملک لکھتے ہیں کہ ریسٹورنٹ کا نام بتایا جائے جو اتنا ماڈرن ہے کہ اسے قومی لباس بھی مہذب نہیں لگتا۔
You should mention that restaurant which is that modern in Pakistan according to which shalwaar kameez is not decent to them
— Hamza Malik (@HamzaMalik78690) July 10, 2025
ایک ایکس صارف کا کہنا تھا کہ یہ غیر امتیازی سلوک میں نہیں احاسِ کمتری میں آتا ہے کہ ہم ابھی تک اپنے قومی لباس کوعزت نہیں دلا سکے اور ابھی تک غلامانہ سوچ سے باہر نہیں آ سکے۔
یہ غیر امتیازی سلوک میں نہیں عطا
یہ احساس سے کمتری میں اتا ہے ہم ابھی تک اپنے قومی لباس کو وو عزت نہیں دلا سکے اور ابھی تک غلامانہ سوچ سے باہر نہیں آ سکے
— AM Baloch (@Silver_Stone00) July 11, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انوکھا ریسٹورنٹ کراچی ریسٹورنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی ریسٹورنٹ ابھی تک
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔