اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اجتماعی نوعیت کی اسکیمیں رکھی جائینگی، تاکہ عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تشکیل سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا مشاورتی اجلاس آج چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور اراکین نے شرکت کیں۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اجتماعی نوعیت کی اسکیمیں رکھی جائیں گی، تاکہ عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب وسائل کو مفاد عامہ کے منصوبوں کے لئے بروئے کار لایا جائے گا تاکہ صوبے میں ترقی کے نئے راستے کھل سکیں۔ انہوں نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ مجوزہ منصوبوں کی سو فیصد ایلوکیشن کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ مالی وسائل کا درست استعمال کیا جا سکے اور عوام کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بجٹ کے ذریعے نہ صرف بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، بلکہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ اجلاس میں موجود اراکین نے وزیراعلیٰ کی قیادت میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تشکیل پر اتفاق کرتے ہوئے تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں نوابزادہ میر طارق خان مگسی، شعیب نوشیروانی، ظہور احمد بلیدی، سلیم احمد کھوسہ، صادق عمرانی، بخت محمد کاکڑ، انجینئر زمرک خان اچکزئی، عبدالمجید بادینی اور حاجی علی مدد جتک نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آئندہ مالی سال کے بجٹ جا سکے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی