بلوچستان بجٹ کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا مشاورتی اجلاس منعقد
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اجتماعی نوعیت کی اسکیمیں رکھی جائینگی، تاکہ عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تشکیل سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا مشاورتی اجلاس آج چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور اراکین نے شرکت کیں۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اجتماعی نوعیت کی اسکیمیں رکھی جائیں گی، تاکہ عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب وسائل کو مفاد عامہ کے منصوبوں کے لئے بروئے کار لایا جائے گا تاکہ صوبے میں ترقی کے نئے راستے کھل سکیں۔ انہوں نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ مجوزہ منصوبوں کی سو فیصد ایلوکیشن کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ مالی وسائل کا درست استعمال کیا جا سکے اور عوام کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بجٹ کے ذریعے نہ صرف بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، بلکہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ اجلاس میں موجود اراکین نے وزیراعلیٰ کی قیادت میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تشکیل پر اتفاق کرتے ہوئے تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں نوابزادہ میر طارق خان مگسی، شعیب نوشیروانی، ظہور احمد بلیدی، سلیم احمد کھوسہ، صادق عمرانی، بخت محمد کاکڑ، انجینئر زمرک خان اچکزئی، عبدالمجید بادینی اور حاجی علی مدد جتک نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئندہ مالی سال کے بجٹ جا سکے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔