بجٹ2025-26:سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کی تجویز منظور
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس میں وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں منظوری دے دی۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کی حتمی منظوری کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی، اس سے قبل سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے اور گریڈ ایک تا 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دینے کی تجویز بھی زیر غور تھی۔
آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے تقریباً 17 ہزار 600 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج شام 5 بجے اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
اجلاس میں شرکت کے لیے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پارلیمنٹ کابینہ کو بجٹ پر بریفنگ دی۔
اس موقع پر ان سے سوال کیا گیا کہ ’مالی نظم و ضبط بجٹ کے بعد بھی برقرار رہے گا ؟اس پر وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ انشا اللہ۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافہ کا امکان ہے۔
مزیدپڑھیں:بجٹ سیشن سے متعلق اپوزیشن اتحاد کی حکمت عملی سامنے آگئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔