کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ، مسافر خوفزدہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نصیرآباد: نوتال کے قریب جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر نوتال کے مقام پر نامعلوم افراد نے راکٹ فائر کیا۔ خوش قسمتی سے حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام مسافر محفوظ رہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی، تاہم حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ علاقے میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کا مشترکہ سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق حملے کے باعث مسافروں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم ٹرین کو جلد ہی روانگی کی اجازت دے دی گئی۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ جعفر ایکسپریس بحفاظت ڈیرہ مراد جمالی پہنچ گئی ہے اور ٹرین سروس معمول کے مطابق بحال کر دی گئی ہے۔
ادھر مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، اور سکیورٹی فورسز علاقے میں مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا