Express News:
2026-07-24@03:29:28 GMT

اسرائیل کی من مانیاں

اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن معاہدے کے باوجود غزہ میں حالات خاصے خراب ہیں اور اسرائیل وہاں اپنی کارروائیاں کر رہا ہے۔ ان کارروائیوں میں مسلسل ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں۔

یوں غزہ میں قیام امن کی جو امید قائم ہوئی تھی وہ تاحال تعبیر کی صورت میں سامنے نہیں آسکی۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ دنوں اسرائیل بھی گئے تھے اور انھوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے ساتھ خطاب بھی کیا تھا لیکن اب وہ بھی حماس کے حوالے سے مسلسل خاصے سخت بیانات دے رہے ہیں۔ادھر امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے یروشلم میں اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات میں انھوں نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ چیلنجوں کے باوجود آگے بڑھے گا۔ صدر ٹرمپ کے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے تحت ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس قائم کی جائے گی، تاکہ غزہ میں امن برقرار رہے جب کہ اسرائیل اس سے دستبردار ہو جائے۔قبل ازیں امریکی نائب صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی تعمیر نو مشکل ہے مگر ہم اس کے لیے بہت پر امید ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکا غزہ میں بغیر فوج بھیجے صرف ہم آہنگی فراہم کرے گا۔انھوں نے واضح کیا کہ حماس کو غیر مسلح ہونے کی کوئی واضح ڈیڈ لائن نہیں دینا چاہتے۔امریکا کی درخواست پر برطانوی فوجیوں کو غزہ امن منصوبے کی نگرانی کے لیے اسرائیل میں تعینات کردیا گیا۔

غزہ میں جب تک حتمی امن نہیں ہوتا تب تک تنازعہ فلسطین کا حل بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ اس وقت ضروری بات یہ ہے کہ غزہ امن منصوبے میں جو جو نکات شامل ہیں‘ان پرفوری عمل درآمد کرایا جائے ‘جہاں تک حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط کا تعلق ہے تو اس حوالے سے  بہتر تو یہ تھا کہ حماس کے ساتھ معاملات طے کیے جاتے کیونکہ حماس بھی حالیہ مذاکراتی عمل میں شریک تھی اور وہ بھی غزہ میں امن کے عمل پر راضی ہے۔

اس کے باوجود غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ کہیں نہ کہیں معاملات حل نہیں ہوئے اور کچھ نکات ابھی ادھورے اور مبہم ہیں۔ حماس کا یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ حماس کے لیڈروں اور کارکنوں کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔اصولی طور پر تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اس قسم کی ضمانت امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ با آسانی دے سکتے ہیں۔

اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ حماس غیر مسلح ہونے پر آمادہ ہو جائے گی جس کی وجہ سے غزہ میں مستقل امن کی ضمانت بھی مل جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی بھی انتہائی ضروری ہے۔ فقط برطانیہ کی فوج کی تعیناتی سے معاملہ حل نہیں ہو گا اس کے لیے مسلم ممالک خصوصاً عربوں پر مشتمل فورس کی تعیناتی بھی ایک اہم نقطہ ہے جس پر جتنا جلد ہو سکے عمل کیا جانا چاہیے۔

غزہ میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ یہ پورا علاقہ کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے ‘حالیہ امن منصوبے کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی اپنے گھروں میں آئے ہیں‘لیکن اسرائیل کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں ‘علاقے میں ادویات اور کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے۔ اسرائیلی فورسز غزہ میں امدادی قافلوں کو ابھی بھی جانے نہیں دے رہی جو سراسر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے ۔

عالمی ادارے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ غزہ میں قحط کی صورت حال ہے اور اس کی ساری ذمے داری اسرائیل کی حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اسرائیلی حکومت نے غزہ میں امدادی سامان کی بندش کو جاری رکھا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ فوجی کارروائیاں بھی کر رہا ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے اپنے ایک فیصلے میں مشاورتی رائے دی ہے کہ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (UNRWA) اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مقبوضہ غزہ کے فلسطینیوں میں امداد کی فراہمی اسرائیل کی ذمے داری ہے۔

اسرائیل غزہ میں بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، غزہ جانے والے امدادی سامان میں رکاوٹ نہ ڈالے۔اسرائیل کو UNRWA اور دیگر اقوام متحدہ کے اداروں کو امداد کی فراہمی میں تعاون کرنا چاہیے۔عالمی عدالت انصاف (ICJ) کے ججوں نے قرار دیا کہ اسرائیل اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی انروا کے ملازمین کی بڑی تعداد حماس کے ارکان ہیں۔واضح رہے اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا پر اسرائیلی پابندی پر جنرل اسمبلی نے عدالت سے اسرائیل کی قانونی ذمے داریوں کے بارے میں مشاورتی رائے دینے کی درخواست کی تھی۔

اسرائیل کی نیتن یاہو حکومت نے غزہ کے حوالے سے جس قسم کی من مانی کی ہے اور ایک چھوٹے سے خطے کے لوگوں پر جس طرح مسلسل بمباری جاری رکھی ہوئی ہے‘ جنگوں کی تاریخ میں اس قسم کی بے رحمی کی مثال کم ہی دیکھنے میں ملے گی۔ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے متعدد بار غزہ میں جنم لینے والے انسانی المیے کے بارے میں اقوام عالم کو آگاہ کر چکے ہیں لیکن اقوام عالم کی طاقتور اقوام نے بھی اسرائیل کی اس من مانی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات سے گریز کی پالیسی اختیار کی ہے۔

روس خود یوکرین کی جنگ میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ روس سے امید کی جا سکتی تھی کہ وہ فلسطین کی حمایت کو آئے گا لیکن یوکرین کی جنگ نے روسی قیادت کو بری طرح الجھا دیا ہے اور ان کی سب سے پہلی ترجیح یوکرین کے مسئلے سے نمٹنا بن چکی ہے جس کی وجہ سے وہ فلسطین پر عملی قدم اٹھانے سے گریزاں ہیں جب کہ چین کی پالیسی بھی بیانات سے آگے نہیں ہے جب کہ بھارت کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔عرب ممالک کی طرف دیکھا جائے تو انھوں نے جس قدر ہو سکا کوشش کی ہے مگر عالمی سیاست میں ان کا وزن اتنا زیادہ نہیں کہ وہ امریکا اور مغربی ممالک کی مشترکہ پالیسی کا توڑ کر سکیں۔ یوں اسرائیل کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا ہے۔

اسرائیل فلسطین کے حوالے سے مسلسل اپنے منصوبے پر عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔میڈیا کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطین کے علاقے مغربی کنارے کے انضمام کا ابتدائی مرحلے کا بل منظور کرلیا گیا۔الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی مخالفت کے باوجود بل کو آگے بڑھانے کے حق میں 25 اور مخالفت میں 24 ووٹ آئے۔نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے بیشتر ممبران یا تو غیر حاضر رہے یا بل کے حق میں ووٹ نہ دیا۔ واضح رہے امریکی صدر ٹرمپ نے کہہ رکھا ہے کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے انضمام کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

اردن نے اسرائیلی حکومت کے مغربی کنارہ ہتھیانے کے دو ڈرافٹس کی ابتدائی منظوری کی شدید مذمت کی ہے ۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی افواج کے غزہ پر تازہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں شرم الشیخ،مصر میں مسلم اور عرب دنیا، امریکا، یورپ اور اقوام متحدہ کی قیادت کی موجودگی میں طے پانے والے امن معاہدے کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔عالمی برادری اسرائیل کی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے ۔ الجزیرہ کے مطابق شمالی غزہ کے علاقے طوفہ میں بھی اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ ادھر ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ حماس نے مزید دو یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دی ہیں جن میں ایک اسرائیلی فوجی اور ایک شہری کی لاش شامل ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس غزہ امن معاہدے کی طے کردہ شرائط پر عمل کر رہی ہے ‘اس امن معاہدے میں یہ بھی شق شامل تھی کہ حماس کے پاس جو یرغمالی موجود ہیں ‘انھیں زندہ یا مردہ اسرائیل کے حوالے کر دیا جائے۔ بہرحال ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی تکمیل تب ہی ممکن ہے جب اسرائیل کو اس پر عملدرآمد کے لیے مجبور کیا جائے گا کیونکہ اسرائیل کی حکومت تاحال اپنی توسیع پسندانہ پالیسی پر بھی عمل کر رہی ہے اور غزہ میں جنگ بندی کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے۔مغربی کنارے کو ہتھیانے کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ نے جو قرار دادیں یا مسودے منظور کیے ہیں وہ سراسر زیادتی ہے۔

موجودہ حالات میں تو اس کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے۔ اسرائیل نے شام کے علاقے گولان ہائیٹس پر بھی ناجائز قبضہ کر رکھا ‘اسرائیل کے انتہا پسند مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اس علاقے کو اسرائیل میں ضم کر لیں۔ اگر اس قسم کی من مانی جاری رہتی ہے تو تنازعہ فلسطین حل نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکے گا۔ اس حوالے سے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑے گی کیونکہ اسرائیل کے انتہا پسند اس وقت تک باز نہیں آئیں گے جب تک کہ انھیں امریکی انتظامیہ سختی سے منع نہیں کرتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی اقوام متحدہ کے حوالے سے اسرائیل کی اسرائیل کو اسرائیل کے کہ اسرائیل امن معاہدے امریکا کے کے باوجود نیتن یاہو کر رہا ہے انھوں نے نہیں ہو حماس کے کے ساتھ کہ حماس کے لیے ہیں کہ ہے اور قسم کی

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف