WE News:
2026-07-24@06:30:30 GMT

گھر میں ایک اور شکست، پاکستانی ٹیم ہمیں کب حیران کرے گی؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

گزشتہ 6 سالوں کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے گھر میں 16 ٹیسٹ میچ کھیلے، جن میں سے 4 جیتے اور 4 کا کوئی نتیجہ نہ نکلا جبکہ 8 میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید تکلیف دہ بات یہ رہی کہ اس دوران 2 سیریز میں کلین سوئپ کی خفت اٹھانی پڑی جبکہ مزید دردناک معاملہ یہ رہا کہ بنگلہ دیش نے تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی۔

یہ ہے وہ کارکردگی جسے ہم اپنے سر پر سجائے گھوم رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ہوم سیریز ٹیمیوں کے لیے سودمند رہتی ہیں کہ وکٹیں اور کنڈیشنز دونوں ہی حق میں ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر ٹیم کا ریکارڈ گھر میں اچھا رہتا ہے، مگر ہمیں ناجانے کیا ہوگیا ہے کہ اب گھر میں بھی جیتنا جیسے بھول گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 16 ٹیسٹ میچوں میں بھی 4 میچوں میں کامیابی اسپن وکٹوں کے نئے فارمولے کے سبب ملی ہے ورنہ 2022 میں پہلے انگلینڈ نے ہمیں گھر میں گھس کر 0-3 سے شکست دے کر رسوا کیا اور پھر 2024 میں بنگلہ دیش نے 0-2 سے شرمندہ کیا۔

جب عاقب جاوید نے اسپن وکٹوں کا نیا فارمولہ پیش کیا اور پھر اس فارمولے پر نعمان علی اور ساجد خان نے شاندار انداز میں عمل کیا تو لگا کہ بس اب تو ہمیں گھر میں ہرانا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے مگر ہم غلط تھے کیونکہ اس فارمولے کے بعد ہم صرف انگلینڈ کو ہی سیریز میں شکست دے سکے ہیں جبکہ ویسٹ انڈیز جیسی کمزور اور جنوبی افریقہ کی کم تجربہ ٹیم کے ہاتھوں بھی سیریز برابر ہی کرسکے اور کامیابی کا سنہری موقع ہم نے اپنے ہاتھ سے نکال دیا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف اس شکست کا ایک منفی نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں ہم اچانک دوسرے سے چوتھے نمبر پر آگئے، لیکن اگر جیت جاتے تو ہماری پوزیشن کافی مستحکم ہوجاتی۔

چونکہ بار بار ہارنے کے بعد اب یہ بحث تو ختم ہی ہوگئی ہے کہ ہم کیوں ہارے، مگر ہاں یہ گنجائش اب بھی باقی ہے کہ اس موضوع پر بات کرلیں کہ ہارنے کا ذمہ دار کون ہے، کچھ لوگ شکست کا ملبہ بلے بازوں پر ڈال رہے ہیں تو کچھ کے نزدیک غلطی بولرز کی ہے، چلیں اچھا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے کہ ہمارے پاس کرنے کے لیے کوئی کام تو ہونا چاہیے۔

لیکن میرے نزدیک ہر بار غلطی صرف ان دونوں کی نہیں ہوتی، بعض اوقات نظام کی خرابی بھی شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہوجاتی ہے۔

جب بھی ہوم کنڈیشنز کی بات کی جاتی ہے تو اس کا فائدہ اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب کسی بھی ٹیم کو معلوم ہو کہ اس کا مضبوط شعبہ کونسا ہے؟ یعنی بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ بنانی چاہیے یا بولنگ کے لیے؟ اسپن وکٹ ہو یا باؤنسی؟ ہاں کچھ میچوں کے لیے آپ میچ میں 3 یا 4 اسپنرز کھلا سکتے ہیں اور میچ جیت بھی سکتے ہیں مگر ہر بار اور بار بار یہ فارمولہ چلانا نہ ہی ٹھیک ہے اور نہ ہی یہ ہر بار کام کرسکتا ہے۔

وکٹیں بناتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ جن وکٹوں پر ہم مخالف ٹیم کو پکڑنا چاہ رہے ہیں کیا ہمارے بیٹسمین انہی وکٹوں پر کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ ویسٹ انڈیز کی کمزور ٹیم نے جنوری میں پاکستان کا دورہ کیا اور اس کے خلاف ہمارے بلے بازوں کا حال یہ رہا کہ 4 اننگز میں صرف ایک بار 200 سے زیادہ رنز بنائے، مگر اس کارکردگی کے باوجود ہم نے ایک میچ جیت لیا۔

ابھی جنوبی افریقہ کے خلاف صورتحال اگرچہ نسبتاً بہتر رہی مگر پھر بھی 4 میں سے 2 اننگز میں ہم 200 سے کم رنز پر آؤٹ ہوگئے، اب اس موقع پر کیا یہ نہیں کہنا چاہیے کہ دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے پر ہم خود ہی بار بار اس میں گر رہے ہیں؟

ماہرین اس بار پر متفق ہیں کہ راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کو پہلی اننگز میں 500 رنز کرنے چاہیے تھے اور کیے جاسکتے تھے، لیکن ہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے اور یہی وہ غلطی رہی جس کا جنوبی افریقہ نے فائدہ اٹھالیا۔

چلیں ہمارے لیے 333 بھی کافی ہوسکتے تھے اگر ہم جنوبی افریقہ کو آخری 2 وکٹوں پر 169 رنز بنانے کی اجازت نہ دیتے، یہ کام بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ابتدائی 8 وکٹیں 235 رنز گرادیں اور ٹیل اینڈز 169 رنز بناکر آپ سے میچ ہی چھین لیں؟

یعنی ہمارے بلے باز بھی ناکام رہے، بولرز بھی اور کپتان بھی، یعنی کسی نے مایوس نہیں کیا اور سب نے بالکل ویسا ہی کھیلا جیسا ہم کئی عرصے سے انہیں دیکھتے آرہے ہیں۔

جب میچ کی پہلی اننگز میں آصف آفریدی نے مشکل وقت میں 6 وکٹیں لیں تو خیال آیا کہ میچ میں ہر بار قصور صرف بلے بازوں یا بولرز کا نہیں ہوتا، نظام کی خرابیاں بھی شکست کا بڑا سبب بن سکتی ہے۔

یہ کیسا نظام ہے کہ کسی بولر کو آپ 39 سال تک موقع نہیں دیں؟ پھر ایک اور تلخ بات بھی دیکھیے کہ 39 سال میں کسی بولر کو موقع دیکر ایک اور نوجوان بولر کے کیریئر کو آپ تاخیر کا شکار کررہے ہیں، میں یہاں ہرگز آصف آفریدی کو کھلانے کی مخالفت نہیں کررہا بلکہ بات صرف یہ ہے کہ کھلاڑی کو وقت پر موقع دینے کا میکینزم ہم کب بنائیں گے؟ ہم لانگ ٹرم پالیسی کب بنائیں گے؟ کب سوچیں گے کہ ہمیں ایسے کھلاڑی تیار کرنے ہیں جو اگلے 2، 4 سالوں میں اس قدر پالش ہوجائیں کہ ٹیم کی فتوحات میں ان کا کردار اہم ہوجائے۔

ہماری ٹیم میں نہ مستقل کوچ ہے، نہ مستقل کپتان ہوتا ہے، بولرز 39 برس کی عمر میں ڈیبیو کرتے ہیں اور بلے بازوں کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر 2 میچوں میں پرفارم نہ کیا تو ٹیم سے باہر ہوجائیں گے، جب حالات یہ ہوں اور ہر چیز غیر یقینی کی شکار ہو تو ان حالات میں حیران کن نتائج کی توقع کرنا دراصل ہماری اپنی ہی غلطی ہے اور اس ہر ہم پوری ٹیم سے معذرت خواہ ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

فہیم پٹیل

گزشتہ 15 سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں، اس وقت وی نیوز میں بطور نیوز ایڈیٹر منسلک ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: گھر میں رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی