بھارت میں بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مرشدآ باد: مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں ہفتہ 6 دسمبر 2025 کو بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے معطل ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کا اہتمام کیا جس میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔یہ تقریب 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کی 33 ویں برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کی گئی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق سنگ بنیاد کی تقریب نے ریاست بھر میں کشیدہ فرقہ وارانہ صورتحال پیدا کردی ہے، اس لیے نتظامیہ کی جانب سے بھاری سیکیورٹی تعینات کی گئی ہے۔تقریب کا آغاز تقریباً 12 بجے قرآن پاک کی تلاوت کے بعد ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، مسجد کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کے لیے سیکڑوں کلومیٹر دور سے بھی مسلمان آئے۔ نامعلوم شخص کی جانب سے تعمیر کےلیے 8 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ تقریب کے منتظم ہمایوں کبیر نے دعویٰ کیا کہ یہ چھوٹے پیمانے پر بابری مسجد کی “بالکل نقل” ہوگی، انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا مذہبی حق ہے اور ہم امن برقرار رکھیں گے۔
میڈیاذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ ہمیں روک رہی ہے، ہمیں سرکاری فنڈز کی ضرورت نہیں ہے میں اس شخص کا نام نہیں بتاؤں گا جو مسجد کی تعمیر کے لیے ہمیں 8 کروڑ روپے دینے کو راضی ہے۔
ایم ایل اے ہمایوں کبیر کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں حکومت کی طرف سے ایک روپیہ نہیں چاہیے ورنہ مسجد کا تقدس برقرار نہیں رہے گا۔
ہمایوں کبیر نے مزید کہا کہ “2024 میں، میں نے اعلان کیا تھا کہ میں جلد ہی مرشد آباد کے بیلڈنگا میں بابری مسجد کا افتتاح کروں گا، آج 6 دسمبر کو ہم یہاں مرشد آباد میں بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے آئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسجد کا سنگ بنیاد بابری مسجد کا ہمایوں کبیر تھا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔