بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے: دفترِ خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بابری مسجد کی شہادت سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ 6 دسمبر 1992ء کا واقعہ آج بھی دکھ اور تشویش کا باعث ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ بابری مسجد کی تباہی عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی علامت ہے، مذہبی ورثے کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
یہ بھی پڑھیے بابری مسجد کی شہادت کو 31 سال مکمل، سیکیورٹی میں اضافہانہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے کے واقعات پر احتساب ضروری ہے، بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ اور ذہنی تکلیف کا شکار ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہندو انتہا پسند تنظیمیں ریاستی سرپرستی سے اقلیتوں کو مزید محدود کرنا چاہتی ہیں، پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی برادری مسلمانوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے، بھارت تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق اور مذہبی رواداری کو یقینی بنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔