نام نہاد اسرائیلی خودمختاری کو مغربی کنارے تک توسیع دینے کی کوشش، پاکستان کا شدید اظہار مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر اپنی نام نہاد ’خود مختاری‘ کو توسیع دینے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

یہ ردعمل اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کی جانب سے ایک روز قبل ایک مسودۂ قانون کی ابتدائی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے اسرائیلی قوانین کو مقبوضہ مغربی کنارے پر لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بدھ کو اسرائیلی قانون سازوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے سے متعلق دو بلز کی منظوری دی، یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں غزہ میں جاری 2 سالہ اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امن معاہدہ طے کروایا تھا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں، بشمول غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر اسرائیل کی نام نہاد ‘خودمختاری’ کی توسیع کی کوششوں کی سخت مذمت کرتا ہے، جو قابض طاقت کی پارلیمان میں پیش کیے گئے مسودۂ قانون کے ذریعے کی جا رہی ہیں‘۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کی ’کھلی خلاف ورزی‘ ہیں۔

وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’ایسے اشتعال انگیز اور غیر قانونی اقدامات خطے میں امن و استحکام کے حصول کی جاری کوششوں کو کمزور کرتے ہیں‘۔

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے ’فوری اور فیصلہ کن کارروائی‘ کرے اور قابض اسرائیلی افواج کو بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کے حقوق، بشمول ان کے حقِ خودارادیت، کے تحفظ اور فلسطینیوں کے لیے امن، انصاف اور عزتِ نفس کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے‘۔

وزارتِ خارجہ نے فلسطین کاز کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر مسلسل فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

بدھ کو کنیسٹ میں ہونے والی ووٹنگ اس قانون کی منظوری کے لیے درکار چار مراحل میں پہلا مرحلہ تھی، اور یہ ووٹ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اسرائیل کے دورے کے موقع پر ہوا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جماعت ’لیکود‘ نے اس قانون کی حمایت نہیں کی، یہ بل حکومتی اتحاد سے باہر قانون سازوں نے پیش کیا تھا اور 120 ارکان میں سے 25 کے مقابلے میں 24 ووٹوں سے منظور ہوا، اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ ایک اور بل، جس میں معالیہ ادومیم نامی بستی کے انضمام کی تجویز تھی، 9 کے مقابلے میں 31 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔

نیتن یاہو کے اتحادی کئی برسوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو باقاعدہ طور پر ضم کرے، جس کے بارے میں اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ علاقے بائبل کے مطابق تاریخی طور پر اس کے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ 1967 میں قبضے میں لیے گئے علاقے قانونی طور پر ’مقبوضہ‘ نہیں بلکہ متنازع ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی اکثریت انہیں مقبوضہ قرار دیتی ہے۔

2024 میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے قرار دیا تھا کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں، بشمول مغربی کنارے، پر قبضہ اور وہاں کی آبادیاں غیر قانونی ہیں اور انہیں جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے۔

فلسطینی اتھارٹی اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے کے چند علاقوں میں محدود خوداختیاری کے ساتھ انتظامی کنٹرول رکھتی ہے۔

امریکا کا ردعمل
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو اسرائیل کو مغربی کنارے کے انضمام سے باز رہنے کی تنبیہ کی، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کیے گئے اقدامات اور آبادکاروں کے تشدد سے غزہ کے امن معاہدے کو خطرہ لاحق ہے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ ’صدر واضح کر چکے ہیں کہ اس وقت ہم انضمام کی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کر سکتے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ اقدامات امن معاہدے کے لیے خطرناک ہیں، یقیناً وہ ایک جمہوری ملک ہیں، ان کے نمائندے اپنی رائے دیں گے، مگر اس وقت ایسے اقدامات نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں‘۔

جب ان سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی شدت پسند آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد سے متعلق پوچھا گیا تو مارکو روبیو نے کہا کہ ’ہم ہر اس چیز پر تشویش رکھتے ہیں جو ہماری کوششوں کو غیر مستحکم کر سکتی ہے‘۔

تاہم مارکو روبیو نے مجموعی طور پر امن معاہدے کے برقرار رہنے کے حوالے سے امید ظاہر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے کو روزانہ خطرات لاحق رہیں گے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہم اسے آگے بڑھانے کے معاملے میں طے شدہ وقت سے آگے ہیں، اور یہ کہ ہم نے یہ ہفتہ بخیریت گزار لیا، یہ ایک مثبت علامت ہے‘۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ امن مشن میں متعدد ممالک شمولیت پر آمادہ؛ امریکی وزیر خارجہ کا انکشاف وزیر اعظم کا صنعتوں اور کسانوں کے لیے رعایتی بجلی پیکیج کا اعلان نیب کی ریکارڈ ریکوری سے قومی خزانے کی آمدنی میں بے مثال اضافہ اسلام آباد میں نیا کنونشن سنٹر، کرکٹ اسٹیڈیم اور سی ڈی اے ہسپتال کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ سعودی عرب کی جانب سے کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے زیر اہتمام اور پاکستان بیت المال کے تعاون سے پاکستان میں.

.. افغانستان میں خوارج کی موجودگی کیخلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں، ترجمان پاک فوج اسلام آباد ہائیکورٹ نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کمی کی درخواست مسترد کر دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نام نہاد کی کوشش

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم