Jasarat News:
2026-06-03@04:39:08 GMT

دہشت گردی کا جن

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251030-03-5
مجاہد چنا
نائن الیون واقعہ رونما ہونے اور پھر ایک فون کال پر نام نہاد دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر فرنٹ لائین کا کردار ادا کرنے کے بعد سے آج تک پاکستان آئی ایم ایف کی غلامی، قرضوں، دہشت گردی، معیشت کی تباہی کی صورت میں اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ کے پی میں درجنوں آپریشن کے باوجود دہشت گردی کا جن بے قابو ہے، بلوچستان جل رہا ہے۔ پنجاب بھی لہو لہاں ہے۔ سندھ میں ڈاکو راج ہے۔ ملک بدترین سیاسی معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے، دہشت گردی ایک بار پھر پنجے گاڑ رہی ہے، دہشت گردی کے پے در پے ہونے والے لرزہ خیز واقعات نے قوم کو نہایت متفکر کر دیا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ کچے کے ڈاکوئوں کے پاس اس طرح کا جدید اسلحہ کہاں سے آیا جس کا مقابلہ سندھ پولیس بھی نہیں کر سکتی! ملک میں بدامنی اوردہشت گردی کا جن بے قابو ہوتا جارہا ہے۔ جس سے ہر محب وطن فرد فکر مند ہے۔ اسی تشویش کا اظہار وزیراعظم نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب میں بھی کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 2018ء میں دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا لیکن بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ اسلام آباد میں بلوچستان ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اللہ نے بلوچستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے لیکن افسوس کہ بلوچستان کی دولت اب بھی زمین کے اندر دفن ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں بلوچستان کو نظر انداز کرنا خود احتسابی کا لمحہ ہے‘ بلوچ عوام ہمیشہ کشادہ دل اور مہمان نواز رہے ہیں‘ بلوچستان میں مختلف برادریوں کے درمیان دیرپا ہم آہنگی قائم رہی‘ صوبے کی جغرافیائی ساخت ترقی کے سفر میں چیلنج بن گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دور دراز آبادیوں تک بجلی اور سڑکوں کی فراہمی بڑا مسئلہ ہے۔ (روزنامہ جسارت 26 اکتوبر 2025) دیکھا جائے تو یہ وزیراعظم کا
اعتراف شکست بھی ہے اور ناکام حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ بھی۔ بلوچستان اور کے پی کے میں درجنوں آپریشن کے باوجود وہاں کے عوام امن کو ترس رہے۔ ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک سے کچے کے چند ڈاکو، مٹھی بھر شدت پسند یا بھارت نواز زیادہ طاقتور ہیں؟
خبریں ہیں کہ بلوچستان میں خضدار اور قلات سے مزید 12 محنت کشوں کے اغوا کے بعد تعداد 30 ہوگئی ہے۔ بلوچستان میں سخت سیکورٹی کے باوجود مزدوروں کے اغوا ہونے والے واقعات میں مسلسل اضافہ تشویش ناک صورتحال ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 4 سال کے دوران ایک ہزار سے زائد لوگ اغوا ہوئے ہیں۔ جن میں اکثریت محنت کش طبقے کی ہے۔ صرف گزشتہ ہفتہ میں ضلع خضدار سے 18 مزدوروں کو اغوا کیا گیا۔ کچھ دن قبل مستونگ سے اغوا ہونے والے ڈی ایس پی کی لاش ملی ہے جن کو نوشکی سے اپنے گھر جاتے ہوئے سوراب سے اغوا کیا گیا تھا۔ محنت کشوں کے اغوا کا سبب بھتا خوری اور تعمیراتی کمپنیوں کا غیر مقامی لوگوں کو بھی لانا بتایا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ملی یکجہتی کونسل کے وفد کی ہمراہ افغانستان میں ہونے والے زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر اظہارہمدردی اور تعزیت کرنے کراچی میں افغان قونصلیٹ میں جانے کا موقع ملا، قونصل جنرل صاحب کا بگرام ائربیس واپس کرنے کی امریکی صدر کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ واپس کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ شاید انہوں نے ائربیس میں جان بوجھ کر اس امید پر اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ چھوڑا اور تقسیم کیا ہوکہ اس کے نتیجے میں وہاں خانہ جنگی اور یہ لوگ آپس میں لڑیں گے مگر امیر المومنین نے جب عام معافی کا اعلان کیا تو سب لوگوں نے اسلحہ جمع کروادیا اور اس وقت افغانستان میں مثالی امن ہے۔ یہی چیز مخالفین کو پسند نہیں آئی کیوں کہ سب کا کاروبار بند ہوگیا۔ اب وہ ائربیس واپس لینا چاہتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے شدت پسندوں اور سندھ کے ڈاکوئوں کے پاس بھی یہی خطرناک اسلحہ ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں بھی اسی اسلحہ کے استعمال ہونے کا بتایا جارہا ہے۔ کنٹینرز کے ذریعے کراچی سے بگرام ائربیس تک لے جانے والا اسلحہ اپنی منزل تک پہنچنے سے قبل ہی منظم منصوبہ بندی کے ساتھ راستے میں حصے بخرے ہوجاتا تھا۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ یہاں پر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر یہ سب کچھ ہورہا تھا اور عام آدمی اس سے باخبر ہے تو پھر ذمے دار ادارے کیا کر رہے تھے؟
دیکھا جائے تو ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، شدت پسندی، اور بدترین بدامنی کی صورتحال یا قیام امن ہو اس میں حکومتی پالیسیوں و اقدامات کا بڑا عمل دخل ہے۔ نائین الیون سے پہلے یہاں دہشت گردی یا خودکش حملوں کا کوئی تصور ہی نہیں تھا یہ سب کچھ غیروں کی جنگ میں فرنٹ لائن کردار ادا کرنے اور آمرانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جس کی وجہ سے انتقامی ذہن و محرومیاں بڑھتی ہیں۔ بلوچستان اگر گیس پیدا کرتا ہے اور قدرتی وسائل سے مالامال ہے تو پہلا حق وہاں کے عوام کا ہونا چاہے، گوادر سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال سے سوال کرتے ہیں کہ گوادرکے نام پر سی پیک کا چرچہ ہے مگر بتایا جائے ملک میں کتنے اور بلوچستان میں کتنے کلومیٹر موٹروے بنایا گیا ہے؟ جواب کچھ نہیں ہے، مطلب بلوچستان میں ایک کلومیٹر موٹروے بھی نہیں بنایا گیا۔ یہاں تک گوادر کے لوگ پینے کے پانی کے لیے بھی پریشان ہیں آخر کیوں؟۔ پاکستان ایک نظریاتی واسلامی ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد دوسرا ملک ہے جوکہ کلمہ ٔ طیب کے نام سے معرض وجود میں آیا ہے۔ اگر ریاست کے قیام کے مقاصد کے مطابق عمل ہوتا تو وطن عزیز دہشت گردی سے لیکر مہنگائی چینی آٹا بحرانوں کی زد میں نہ ہوتا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ڈیڑھ سالہ دور حکومت میں مجموعی طور پر 34 اور صدر زرداری نے اسی مدت کے دوران 3 دورے کیے ہیں۔ جن میں سعودی عرب، چین، امریکا، مصر ودیگر شامل ہیں جبکہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد کہیں اور زیادہ بڑھ جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے بیرون ملک دورے ہوسکتے ہیں تو پھر اپنوں کو منانے اور مسائل کو سلجھانے و حل کرنے اور آپس میں مل بیٹھنے کے لیے بلوچستان فاٹا اور کے خیبر پختون خوا میں کیوں دورے نہیں کیے جاسکتے؟ آزاد کشمیر میں عوامی طاقت کے سامنے حکومت کو گھٹنے ٹیک دینے سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ طاقت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ سیاسی حکومت ہمیشہ مسائل کا حل سیاسی نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ فارم 47 کے ذریعے حکومت مسلط کرنے کا فارمولا بھی ناکام ہوگیا۔ سیاست کو بندگلی، معیشت کی بحالی اور ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے نکالنے کے لیے پوری سیاسی قیادت کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا ذاتی علاقائی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی مفادات کے مطابق حکمت عملی بنانی ہوگی کیونکہ ملک ہیں تو ہم ہیں اور ملکوں سے ہی قوموں کی شناخت ہوتی ہے۔ اس لیے بیرونی جارحیت کا مقابلہ، فاٹا سے بلوچستان اور سیاسی انتشار سے معیشت کی بحالی تک مسائل کا واحد حل بات چیت، ناراض لوگوں کو منانا اور بڑے پن سے نکا لا جاسکتا ہے اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ ریاست تو ماں ہوتی ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلوچستان میں دہشت گردی کے ہونے والے

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی