امریکا: پارک میں گھومنے گئے شخص کے ہاتھ قیمتی ہیرا لگ گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
امریکی ریاست آکنساز میں موجود کریٹر آف ڈائمند اسٹیٹ پارک میں گھومنے گئے ایک شخص کے ہاتھ 2.71 قیراط کا سفید ہیر لگ گیا۔
امریکی ریاست انڈیانا کے علاقے پاؤلی کے رہائشی ڈیوی وائٹ نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے اپنے طویل ٹرپ کا آغاز پارک میں دو دن قیام سے کیا۔ وہ دونوں اس جگہ سے اتنے محظوظ ہوئے کہ ٹرپ سے واپسی پر انہوں نے وہاں دوبارہ رکنے کا فیصلہ کیا۔
ڈیوی وائٹ نے بتایا کہ دوسرے بار آتے وقت وہ کچھ اسکرینز خرید لائے اور وہ اور ان کی اہلیہ ساؤتھ واش پویلین میں موجود کینیری ہِل کے علاقے پہنچ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں ٹرپ کے پہلے دن ایک نہایت اچھا انسان ملا جس نے ان کو اس جگہ کے متعلق بتایا۔
انہوں نے اپنی دریافت سے متعلق بتایا کہ انہیں معلوم تھا کہ انہیں جو چیز ملی ہے وہ کوارٹز سے مختلف ہے۔ جس وقت انہوں نے اس کو اپنے بیلچے میں دیکھا اس وقت لگا کہ وہ شیشے کا ایک دھاتی ٹکرا ہے۔
2.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔