نابینا امریکی شہری کا انوکھا کام: آنکھ میں اصلی ہیرا جڑوا لیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
الاباما : امریکی ریاست الاباما سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی بینائی کھو دینے کے بعد ایسا قدم اٹھایا جس نے سب کو حیران کر دیا۔
چند سال قبل ایک حادثے میں اپنی ایک آنکھ کی بینائی مکمل طور پر گنوا بیٹھنے والے اس شہری نے روایتی علاج سے مایوس ہو کر ڈاکٹروں سے مشاورت کے بعد ایک منفرد فیصلہ کیا۔
ڈاکٹروں نے اسے مصنوعی آنکھ لگانے کا مشورہ دیا، مگر اس نے صرف مصنوعی آنکھ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے مرکز میں ایک اصلی ہیرا جڑوا لیا۔ یوں اُس کی غیر فعال آنکھ چمکنے لگی اور وہ دیکھنے کے بجائے چمکنے کی علامت بن گئی۔
شہری کا کہنا تھا کہ میں نے سوچا اگر یہ آنکھ دیکھ نہیں سکتی تو کم از کم چمک تو سکتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بینائی کے نقصان کو ایک تخلیقی انداز میں قبول کرنا چاہتا تھا تاکہ اپنی معذوری کو خوبصورتی اور اعتماد میں بدل سکے۔
ماہرین کے مطابق ایسی مصنوعی آنکھوں میں آرائشی کرسٹل یا قیمتی پتھر جڑنا صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب آنکھ مکمل طور پر غیر فعّال ہو، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ عمل کسی غیر ماہر یا غیر تربیت یافتہ شخص سے کروایا جائے تو آنکھ کے ٹشو یا اندرونی ساخت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ بھی رہتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سرجری ایکسپرٹس کے ہاتھوں سے، سٹرلائزڈ ماحول میں اور اصولوں کے مطابق کی جائے تو اس کے خطرات کم ہوتے ہیں اور یہ صرف جمالیاتی مقصد کے لیے محفوظ طریقے سے کی جا سکتی ہے۔
الاباما کے شہری کا یہ انوکھا فیصلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جہاں لوگ اسے زندگی کو چمکدار انداز میں قبول کرنے کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ کسی نے اسے تخلیقی قرار دیا تو کسی نے کہا کہ یہ افسوس کو خوبصورتی میں بدلنے کا جرات مندانہ فیصلہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ