data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)شیخ برادری پاکستان کی مشہور شخصیت شیخ محمد صادق مرحوم کی پوتی اور شیخ عبداللہ (اٹلی والے)کی صاحبزادی اور شیخ محمد شفیق، شیخ محمد سلیم اور حیدرآباد کے معروف وکیل ندیم اقبال شیخ ایڈووکیٹ کی بھتیجی کی شادی خانہ آبادی محمد ریحان قریشی سے حیدرآباد کے نجی بینکیوٹ میں بخیر وخوبی انجام پائی ۔ تقریب میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات سمیت وکلابرادری کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ اس موقع پر فضل قادر میمن ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، میاں تاج محمد کیریو ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ،غضنفر علی بھٹو اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے جاوید اقبال شیخ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ عبدالحق قریشی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ،نعیم فیض ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ،یاور عباس مغل ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ،اسرار خانزادہ ایڈوکیٹ فیصل قریشی ایڈوکیٹ عبیداللہ عباسی ایڈوکیٹ، حیدرآباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر نجم الدین قریشی حیدرآباد موٹر سائیکل ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر افتخار عباسی ،نائب صدر زلفی سیال، عظیم الشان کلاتھ مارکیٹ کے سینئر نائب صدر جاوید سلیم محمد علی راجپوت۔ تقی شیخ ،سعیدالدین شیخ،ریجنل منیجر بینک الحبیب آصف میمن،انیس میمن ایکس مینجر ایچ بی ایل ،محمد ظفر منیجر ایم سی بی بنک، سینئر صحافی شیراز بھٹی، شکیل احمد خان، احسان جعفری ،سلیم قریشی ،ندیم قریشی سمیت تاجر برادری و عمائدین شہر نے بھرپور شرکت کی۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہائی کورٹ

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی