سندھ ہائی کورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
سندھ ہائی کورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔
ہائی کورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
پولیس نے لاپتا شہریوں سے متعلق رپورٹ پیش کردی، رپورٹ میں کہا گیا کہ سرجانی سے لاپتا 2 شہریوں میں سے ایک شہری زر تاج ولی گھر واپس آگیا ہے، سیف الرحمان نامی شہری تاحال لاپتا ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیس میں اب تک کیا پراگریس ہے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ لاپتا دوسرے شہری سے متعلق بھی معلومات ملی ہیں، بہت جلد دوسرا شہری بھی بازیاب ہوجائے گا۔
رپورٹ کے مطابق گڈاپ سے لاپتا شہری فہد شاہ بحفاظت گھر واپس آگیا ہے، عدالت نے شہری کی بازیابی پر گمشدگی کی درخواست نمٹا دی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ کلفٹن سے لاپتا شہری کی گمشدگی کا مقدمہ درج نہیں کیا جارہا، پولیس نے ایف آئی آر کے اندراج کے لئے بلایا لیکن اپنی مرضی کا بیان لکھ رہے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ تحریری طور پر بیان دیدیں، پولیس آپ کے بیان کے مطابق مقدمہ درج کرے گی۔
عدالت نے آئندہ سماعت تک لاپتا شہریوں سے متعلق پیشرفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔
بلڈر جاوید اقبال و دیگر کی بازیابی سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس جاری
سندھ ہائیکورٹ نے بلڈر جاوید اقبال و دیگر کی بازیابی سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔
ہائیکورٹ میں بلڈر جاوید اقبال و دیگر کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ جاوید اقبال زمزمہ میں اپنے آفس میں تھے۔ 10 سے 12 افراد زمزمہ آفس میں داخل ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی؛ ڈیفنس میں حساس ادارے کی کارروائی، معروف بلڈر زیر حراست
جاوید اقبال کو پولیس یونیفارم اور سادہ لباس افراد ساتھ لے گئے۔ مقامی تھانے نے درخواست وصولی سے انکار کیا ہے۔ جاوید اقبال، طاہر علی اور ابوبکر نے کچھ کیا ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔
عدالت نے آئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا۔
عدالت نے درخواست کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی۔ درخواست میں وفاق، وزارت داخلہ، آئی جی سندھ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی بازیابی سے متعلق درخواست جاوید اقبال لاپتا شہری عدالت نے دیگر کو
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔