سندھ ہائی کورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔

ہائی کورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

پولیس نے لاپتا شہریوں سے متعلق رپورٹ پیش کردی، رپورٹ میں کہا گیا کہ سرجانی سے لاپتا 2 شہریوں میں سے ایک شہری زر تاج ولی گھر واپس آگیا ہے، سیف الرحمان نامی شہری تاحال لاپتا ہے۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیس میں اب تک کیا پراگریس ہے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ لاپتا دوسرے شہری سے متعلق بھی معلومات ملی ہیں، بہت جلد دوسرا شہری بھی بازیاب ہوجائے گا۔

رپورٹ کے مطابق گڈاپ سے لاپتا شہری فہد شاہ بحفاظت گھر واپس آگیا ہے، عدالت نے شہری کی بازیابی پر گمشدگی کی درخواست نمٹا دی۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ کلفٹن سے لاپتا شہری کی گمشدگی کا مقدمہ درج نہیں کیا جارہا، پولیس نے ایف آئی آر کے اندراج کے لئے بلایا لیکن اپنی مرضی کا بیان لکھ رہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ تحریری طور پر بیان دیدیں، پولیس آپ کے بیان کے مطابق مقدمہ درج کرے گی۔

عدالت نے آئندہ سماعت تک لاپتا شہریوں سے متعلق پیشرفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔

بلڈر جاوید اقبال و دیگر کی بازیابی سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس جاری

سندھ ہائیکورٹ نے بلڈر جاوید اقبال و دیگر کی بازیابی سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔

ہائیکورٹ میں بلڈر جاوید اقبال و دیگر کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ جاوید اقبال زمزمہ میں اپنے آفس میں تھے۔ 10 سے 12 افراد زمزمہ آفس میں داخل ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی؛ ڈیفنس میں حساس ادارے کی کارروائی، معروف بلڈر زیر حراست

جاوید اقبال کو پولیس یونیفارم اور سادہ لباس افراد ساتھ لے گئے۔ مقامی تھانے نے درخواست وصولی سے انکار کیا ہے۔ جاوید اقبال، طاہر علی اور ابوبکر نے کچھ کیا ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالت نے آئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے  آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے درخواست کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی۔ درخواست میں وفاق، وزارت داخلہ، آئی جی سندھ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی بازیابی سے متعلق درخواست جاوید اقبال لاپتا شہری عدالت نے دیگر کو

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی