اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلدیاتی الیکشن کے انعقاد سے متعلق سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافے اور بعض نئے علاقوں میں ٹیکس کے نفاذ سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالتِ عالیہ کے ڈویژن بنچ نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق سنگل بنچ کا فیصلہ بھی معطل کر دیا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس راجہ انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران سنگل بنچ کے 120 روز میں بلدیاتی الیکشن کروانے کے حکم کو معطل کرتے ہوئے مزید کارروائی روکنے کا حکم جاری کیا ۔ یاد رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے پراپرٹی ٹیکس کے نفاذ سے متعلق کیس کے فیصلے میں حکومت کو چار ماہ کے اندر اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم فیصلے کے پیراگراف 29 میں درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔