data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251021-08-14
راولپنڈی (آن لائن) ریلوے کے وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن امن کی خواہش کو کچھ لوگ کمزوری سمجھنے لگے تھے لیکن اب ریاست نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ان کے گھروں میں نشانہ بنایا جائے گا، اب پاکستان میں نہ کسی افغانی کی جائیداد رہے گی نہ کوئی افغانی یہاں رہے گا۔ گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان میں بار بار دہشت گردی پر افغانستان کو دفتر خارجہ کے ذریعے 800 سے زائد مرتبہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا 40 سے زیادہ ڈیلیگیشن افغانستان بھیجے گئے مگر کوئی اثر نہیں ہوا حالانکہ معرکہ حق میں پاکستان کو دنیا بھر میں اللہ تعالیٰ نے جو عزت دی ہے اس کے بعد ہم نے بار بار افغانستان کو سمجھایا لیکن سمجھانے کے باوجود یہ اس وقت بات چیت پر آئے جب پاکستان نے دہشت گردانہ کاروائیوں کا دلیرانہ اور موثر انداز میں جواب دیا انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جب ہم نے قندھار اور کابل میں جا کر ان دہشت گردوں کو مارا تب یہ بات چیت پر آئے انہوں نے واضح کیا کہ ہم ہر اس شخص کا پیچھا کریں گے جو پاکستان میں ہمارے شہدا اور ہمارے شہریوں کا قاتل ہے ہماری پولیس کا قاتل ہے ایسا ناسور جہاں ہوگا اسے وہاں نشانہ بنایا جائے گا ریاست نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک