دوحہ مذاکرات کی کامیابی سے پاک افغان جنگ بندی، خطے میں استحکام آئے گا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر)کستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئلزفورم اورآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ دوحہ میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کے نتیجے میں فوری جنگ بندی کا اعلان ایک نہایت اہم پیش رفت ہے، جوحالیہ سرحدی کشیدگی کے بعد خطے کے استحکام کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ قطراورترکی کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پرکنٹرول کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے پس منظرمیں ہوئے ہیں۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کی طویل عرصہ تک مہمان نوازی کی ہے اور افغان عبوری حکومت کی حمایت بھی کی تھی، مگرحالیہ مہینوں میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں اضافے کو افغان حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی جس کے خاتمے کے لیے پاکستان کو افغانستان کے اندر اپنے اہداف کو نشانہ بنانا پڑا اور اس کے بعد افغان عبوری حکومت مذاکرات پر مجبور ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ڈیورنڈ لائن پرایک ہفتے سے زائد جاری جھڑپوں نے چمن-اسپن بولدک سرحدی گذرگا? سمیت تجارتی نقل وحرکت کو مفلوج کردیا ہے جس سے افغانستان کی کمزورمعیشت کوشدید نقصان پہنچا ہے اور اسے ضروری سامان کی ترسیل بھی رک گئی تھی جس کے بعد 19 اکتوبر 2025ء کے معاہدے کے تحت افغانستان نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی حمایت نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن