قائمہ کمیٹی تجارت نے چینی بحران پر رپورٹ منظور کرلی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(جسارت نیوز)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے چینی بحران پر پیش کردہ اپنی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی اورماضی میں قومی مفاد کے خلاف چینی کی برآمدات کی اجازت دینے والے افراد کی نشاندہی کرنے کی سفارش کرتے ہوئے مسابقتی
کمیشن حکام کو طلب کرلیا تاکہ وہ چینی کے شعبے میں کارٹلائزیشن روکنے میں اپنی ناکامی کی وضاحت کر سکے۔پیرکوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس محمد جاوید حنیف کی زیر صدارت ہوا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بار بار ہونے والی غلطیوں کے باعث ایک جامع انکوائری ناگزیر ہے، متعلقہ افراد کے خلاف احتساب یقینی بنایا جائے، اس مقصدکیلیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔انہوںنے کہاکہ ذیلی کمیٹی نے چینی کے شعبے کی ڈی ریگولیشن اور شوگر ایڈوائزری بورڈ کی ازسرِنو تشکیل کی سفارش کی، جس میں نجی شعبے کی نمائندگی شامل نہ ہو تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔