آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید امین شیرازی کانشترمیڈیکل یونیورسٹی کا دورہ، طلباء سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید امین شیرازی نے طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امامیہ طلباء کا وجود تعلیمی اداروں منفرد ہونا چاہیے، امامیہ طلباء اداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اسلام ناب محمدی کے ترجمان ہیں، نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ہم اپنے معاشرے میں ایک پڑھے لکھے اور ذمہ دار فرد کی حیثیت خدمات انجام دے سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی سید امین شیرازی نے وفد کے ہمراہ نشترمیڈیکل یونیورسٹی کا دورہ کیا، دورے کے دوران انہوں نے جامعہ کے طلباء سے ملاقات کی۔ اس نے وفد میں نومنتخب ریجنل صدر علی مصدق، نومنتخب ضلعی صدر مطہر حسین شیرازی، سابق ریجنل صدر احتشام حیدر، سید حسن نقوی اور دیگر موجود تھے۔ آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید امین شیرازی نے طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امامیہ طلباء کا وجود تعلیمی اداروں منفرد ہونا چاہیے، امامیہ طلباء اداروں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اسلام ناب محمدی کے ترجمان ہیں، نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ہم اپنے معاشرے میں ایک پڑھے لکھے اور ذمہ دار فرد کی حیثیت خدمات انجام دے سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔