سرینگر میں یونیورسٹی کے طلباء کا تعلیمی غیر یقینی صورتحال پر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ان کا کہنا تھا کہ تعلیم سے متعلق اچانک فیصلوں اور انتظامیہ کی طرف سے رابطے کے فقدان کی وجہ سے ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں یونیورسٹی کے طلباء نے مسلسل غیر یقینی صورتحال کے خلاف کیمپس کے اندر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی طلباء نے پہلے اور پانچویں سمسٹر سے متعلق حالیہ تعلیمی مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے سے ان کی تعلیم میں خلل پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم سے متعلق اچانک فیصلوں اور انتظامیہ کی طرف سے رابطے کے فقدان کی وجہ سے ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب نوٹس یا وضاحت کے بغیر تبدیلیوں سے طلباء امتحانات، کورس ورک اور تعلیمی ٹائم لائنز کے حوالے سے الجھن کا شکار ہیں۔ طلباء نے منصفانہ اور طلباء کے مفاد میں فیصلہ سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کے کام کاج میں شفافیت اور جوابدہی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کے خدشات کو یکطرفہ فیصلوں کے بجائے مناسب مشاورت سے دور کیا جانا چاہیے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بروقت وضاحت نہ ملنے سے طلباء خاص طور پر اہم سمسٹرز میں شامل ہونے والے طلباء میں بے چینی بڑھ گئی اور ان کا تعلیمی مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسائل کو فوری طور پرحل نہ کیا گیا تو ابہام سے طلباء کا ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔