26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست کی فوری سماعت کی استدعا مسترد
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251021-08-19
کراچی (اسٹاف رپورٹر)26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست کی فوری سماعت کی استدعا مسترد کردی۔سندھ ہائیکورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست کی فوری سماعت کی استدعا کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت عدالت کاکہنا تھا کہ کیس میں پہلے سے تاریخ فکس ہے، اب کیا جلدی ہے؟ درخواست گزار کاکہنا تھا کہ عدالت کی طرف سے نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے، فوری سنا جائے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ میں 26 آئینی ترمیم کے خلاف زیر سماعت ہے،عدالت عظمیٰ کا آئینی بینچ ترجیحی بنیادپر کیس سن رہا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے بیان کے بعد عدالت نے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا مسترد کر دی۔ درخواست الٰہی بخش ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں کہا گیا کہ26 ویں آئینی ترمیم پاس کرکے عدلیہ کی آزادی اور رول آف لا کی خلاف ورزی کی گئی ہے، آئین کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کرکے عدالت عظمیٰ میں ججز کی تعیناتی میں انتظامیہ کی مداخلت بڑھا دی گئی ہے، اس قسم کی ترمیم عدلیہ کی آزادی اور عدلیہ کو انتظامیہ کے ما تحت کرنا ہے، آئینی ترمیم کی سیکشن8، 11 اور 14 کالعدم قرار دی جائیں۔ درخواست میں سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، سیکرٹری لا اینڈ جسٹس اینڈ پارلیمانی افیئرز و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،26 ویں آئینی ترمیم کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر کی جانب سے بھی سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درخواست کی فوری سماعت کی استدعا ویں ا ئینی ترمیم
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔