گوگل نے نیا کوانٹم کمپیوٹنگ الگورتھم تیار کرلیا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں انقلاب بپا کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی گوگل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ایسا کوانٹم کمپیوٹنگ الگورتھم تیار کیا ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے منفرد ڈیٹا تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ نیا الگورتھم، جسے “Quantum Echoes” کا نام دیا گیا ہے، گوگل کے اپنے کوانٹم چِپ پر چلتا ہے اور یہ دنیا کے جدید ترین سپرکمپیوٹرز پر موجود روایتی الگورتھمز کے مقابلے میں 13,000 گنا تیز ہے۔
ادویات اور سائنسی مواد میں انقلاب کا امکانگوگل کے محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں Quantum Echoes الگورتھم مالیکیولز کی ساخت ناپنے کے لیے استعمال ہو سکے گا۔ یہ پیش رفت نئی دواؤں کی تیاری اور مواد کی سائنس میں نئی اقسام کے مادوں کی دریافت میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل اے آئی نے زمین پر خلائی مخلوق کے پوشیدہ ٹھکانوں کی نشاندہی کردی
گوگل کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے’یہ ترقی ہماری پچھلے سال پیش کردہ کوانٹم چِپ ‘Willow’ جتنی ہی اہم ہے۔‘
“Willow” چِپ اور ’کوبٹس‘ کا مسئلہگزشتہ سال گوگل نے اپنی کوانٹم چِپ “Willow” متعارف کرائی تھی، جو کوبٹس (Qubits) سے متعلق ایک بنیادی مسئلہ یعنی غلطی اور غیر استحکام پر قابو پانے میں کامیاب رہی۔ اب کمپنی کا کہنا ہے کہ Quantum Echoes کا ترقیاتی سنگِ میل اس چِپ کی اہمیت کے برابر ہے۔
ڈیٹا کی تصدیق اور مصنوعی ذہانت میں استعمالگوگل کے سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ نیا الگورتھم دوسرے کوانٹم کمپیوٹرز پر بھی تصدیق کے قابل ہے، یعنی اس کے نتائج قابلِ اعتبار ہیں۔
ٹام او’برائن، گوگل ریسرچ سائنسدان کا کہنا ہے کہ اگر میں یہ ثابت ہی نہ کر سکوں کہ میرا ڈیٹا درست ہے، تو میں اس سے کسی نتیجے پر کیسے پہنچ سکتا ہوں؟
یہ بھی پڑھیے گوگل کے نئے اے آئی ماڈل نے ویڈیو جنریشن میں انقلاب برپا کردیا
گوگل کا کہنا ہے کہ تصدیق شدہ ڈیٹا کی یہ صلاحیت مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے لیے نئی ڈیٹا سیٹس بنانے میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں معیاری ڈیٹا دستیاب نہیں۔ مثلاً بایو سائنسز اور لائف سائنسز۔
تحقیقی تفصیلات ’نیچر‘ میں شائعگوگل نے Quantum Echoes کی سائنسی تفصیلات عالمی تحقیقی جریدے Nature میں شائع کی ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون جیسی بڑی کمپنیاں کوانٹم کمپیوٹنگ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ایک ایسی ٹیکنالوجی جو مستقبل میں روایتی کمپیوٹنگ کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیکنالوجی کوانٹم کمپیوٹنگ الگورتھم گوگل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی گوگل کوانٹم کمپیوٹنگ کا کہنا ہے کہ گوگل نے گوگل کے کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔