باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز نے بارود سے بھری گاڑی کو تباہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز یا عوام کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا، یہ بارود افغانستان سے پاکستان اسمگلنگ کے مال کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقہ تنگئی میں سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الخوارج کی سینکڑوں کلو گرام بارود سے بھری گاڑی پر فائر کرکے تباہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق رات سے سڑک کنارے چھوڑی گئی گاڑی کو سیکیورٹی فورسز نے فائر کرکے دھماکے سے اڑا دیا، گاڑی میں بارودی مواد موجود تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوارج نے گاڑی کو باجوڑ میں کسی سول آبادی میں جا کر دھماکے سے اڑانا تھا تاہم سیکیورٹی فورسز نے گاڑی کو تباہ کر دیا۔ سیکیورٹی فورسز یا عوام کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا، یہ بارود افغانستان سے پاکستان اسمگلنگ کے مال کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان شاء اللہ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت آخری خوارجی کے خاتمے تک عوام اور افواجِ پاکستان ملک کے دفاع کے لیے یونہی ڈٹی رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز نے گاڑی کو
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔