آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے70 تقرریاں کالعدم قرار دے دیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
زاہدبشیرچودھری: آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس راجہ صداقت حسین کے دور میں ہونے والی تقرریاں کالعدم قرار دے دیں۔
عدالت نے سابق چیف جسٹس راجہ صداقت حسین کے دور میں ہونےوالی70 تقرریوں کے خلاف فیصلہ راجہ شعیب بنام مجاز اتھارٹی کیس میں سنایااورقرار دیا کہ تقرریاں میرٹ اور قواعد و ضوابط کے برعکس کی گئیں۔
جسٹس چوہدری خالد رشید نے حکم دیا کہ تین ماہ کے اندر تفصیلی انکوائری کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے،فیصلے میں کہاگیاہے کہ بھرتیوں کے دوران شفافیت اور قانون کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے،ہائی کورٹ نے پبلک سروس کمیشن کے کردار اور تقرری کے عمل کی جانچ پڑتال کی ہدایت کی۔
خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار
واضح رہے کہ رِٹ پٹیشن راجہ شعیب کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
عدالتی فیصلے کے بعد محکمہ عدلیہ میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیوں کا امکان ہے اورقانونی ماہرین کے مطابق فیصلہ عدالتی شفافیت اور احتساب کی جانب اہم قدم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔