جرمنی میں کم اجرت پر کام کرنے والوں کی تعداد 63 لاکھ سے متجاوز
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن وفاقی شماریاتی دفتر نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک بھر میں کم از کم فی گھنٹہ اجرت پر کام والوں کی تعداد 63 لاکھ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم اجرت والی ملازمتیں تمام ملازمتوں کا 16 فیصد بنتی ہیں، جو 2024ء کے تناسب کے برابر ہے۔ اپریل 2014 ء میں یہ شرح 21 فیصد تھی۔ اس کے بعد کم سے کم اجرت پر کم کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج کمی آئی ہے۔ واضح رہے کہ جرمنی میں کم سے کم اجرت اوسط مجموعی فی گھنٹہ اجرت کے دو تہائی پر مقرر کی جاتی ہے، اس میں تربیتی ملازمین کو شمار نہیں کیا جاتا۔ یعنی یہ شرح مجموعی تنخواہوں کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔اپریل میں یہ حد 14.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔