یورپ جانیوالے تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 40 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تیونس کے حکام کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی کشتی ساحلی شہر مہدیہ کے مقام پر ڈوبی، حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں مجموعی طور پر 70 افراد سوار تھے جن میں سے 30 کو بچا لیا گیا جبکہ 40 لاشوں کو بھی نکال لیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ یورپ جانیوالے تارکین وطن کی کشتی کو تیونس میں حادثہ پیش آیا جس میں 40 افراد ہلاک ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تیونس کے حکام کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی کشتی ساحلی شہر مہدیہ کے مقام پر ڈوبی، حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں مجموعی طور پر 70 افراد سوار تھے جن میں سے 30 کو بچا لیا گیا جبکہ 40 لاشوں کو بھی نکال لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کشتی میں سوار تارکین وطن کا تعلق افریقہ کے مختلف ممالک سے تھا، واقعہ کے حوالے سے تیونس پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ رواں سال میں پیش آنے والے خطے کے مہلک ترین سمندری حادثات میں سے ایک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تارکین وطن کی کشتی لیا گیا
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔