سربراہ پاک فضائیہ کا دورہ رومانیہ، دونوں ممالک میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنے سرکاری دورۂ رومانیہ کے دوران رومانیہ کے اسٹیٹ سیکرٹری برائے دفاع مسٹر ایڈورڈ باکائڈ اور رومانیہ کے چیف آف ڈیفنس جنرل گیورگیتسا ولاد سے مشترکہ ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک کی اعلیٰ عسکری قیادت کے مابین اس اہم ملاقات کے دوران ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاکستان رومانیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ سفارتی اور دفاعی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو علاقائی امن و سلامتی کے امور پر باہمی ہم آہنگی کی بنیاد پر استوار ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ فوجی شراکت داری کو درپیش مشترکہ چیلنجز کے تناظر میں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور تعاون و عملی ہم آہنگی کے نئے شعبوں میں شراکت بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ رومانیہ کے اسٹیٹ سیکرٹری برائے دفاع نے پاک فضائیہ کی شاندار جنگی کارکردگی اور آپریشنل صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے رومانیہ کی جانب سے پی اے ایف کے تجربات سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران رومانیہ کے چیف آف ڈیفنس جنرل گیورگیتسا ولاد نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دوطرفہ فوجی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ مشقوں، تربیتی تبادلوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگراموں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو باہمی اعتماد اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے مقابلے میں مشترکہ تعاون کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دونوں ممالک پاک فضائیہ رومانیہ کے
پڑھیں:
آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا
آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
آکس معاہدہ کیا ہے؟آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔
منصوبے پر خدشات بھی برقراراگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔
اخراجات میں مزید اضافہآکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا کا جوہری آبدوزوں کا منصوبہ آکس معاہدہ آسٹریلیا امریکا برطانیہ