پنجاب حکومت کا لاؤڈ سپیکر ایکٹ کا نفاذ لازمی اور مزید سخت کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے لاؤڈ سپیکر ایکٹ کا نفاذ لازمی اور مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیاہے ، ہر ضلع میں وسل بلور سیل قائم کیئے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرصدارت امن و امان کی صورتحال پر تیسرا اجلاس ہوا جس دوران انتہا پسند جماعت اور غیرقانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کے خلاف 15 میں خصوصی سیل قائم کرنے ، پنجاب کو اسلحے سے پاک کرنے کے لئے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیاہے ۔
امریکا نے روس کی 2 بڑی تیل کمپنیوں پر پابندیاں عائد
ڈالاکلچر،بدماشی اور مافیا کلچر ناقابل برداشت قرار دیا گیا جبکہ پنجاب حکومت نے امن کمیٹیوں کو فوری طور پر مؤثر اور فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔امن کمیٹیوں کو تمام آپریشنز پر آن بورڈ رکھا جائے گا،ہر شہری تک موبائل پولیس اسٹیشن کی خدمات پہنچائی جائیں گی۔
اعلامیہ کے مطابق کارروائیاں صرف مخصوص انتہا پسند ذہنیت کے خلاف ہیں کسی فرقے یا عقیدے کیخلاف نہیں ہے،ضلعی انتظامیہ سے روزانہ کی بنیاد پر غیرملکیوں کے انخلا سے متعلق رپورٹ طلب کر لی گئی ہے ،انتظامیہ روزانہ بتائے کتنے غیرملکی باشندے ٹیکس نیٹ میں لائے گئے۔
ابوظبی، آن لائن فراڈ کے شکار افراد کو رقوم واپس
عوام غیر قانونی رہائشیوں کو دکان یا مکان کرائے پر نہ دیں، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہونگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کا فیصلہ
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔