74 سالہ شخص نے 5 کروڑ روپے دے کر 24 سالہ خاتون سے شادی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
انڈونیشیا کے صوبے ایسٹ جاوا کے علاقے پاسیٹان ریجنسی میں ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب 74 سالہ شخص Tarman نے خود سے 50 سال چھوٹی، 24 سالہ خاتون Shela Arika سے شادی کرلی۔ اس شادی کی خاص بات یہ تھی کہ دلہن کو 3 ارب انڈونیشین روپے، یعنی پاکستانی کرنسی میں 5 کروڑ روپے سے زائد رقم ادا کی گئی۔ شادی کی تقریب یکم اکتوبر کو نہایت شان و شوکت سے منعقد ہوئی، جہاں دلہن کو باضابطہ طور پر ایک چیک بھی پیش کیا گیا۔ مہمانوں نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا اور روایتی تحائف کے بجائے میزبانوں کی جانب سے انہیں ایک لاکھ انڈونیشین روپے نقد بطور تحفہ دیے گئے۔
یہ تقریب اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جب ویڈنگ فوٹوگرافی کی ایک کمپنی نے دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد نوبیاہتا جوڑا ادائیگی کیے بغیر روانہ ہوگیا اور ان سے رابطہ ممکن نہ رہا۔ افواہیں یہاں تک پھیل گئیں کہ Tarman رقم ادا کیے بغیر ایک موٹرسائیکل پر فرار ہوگیا، اور کچھ لوگوں نے تو چیک کو بھی جعلی قرار دیا۔ تاہم چند دن بعد Tarman نے سوشل میڈیا پر ان تمام دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چیک اصلی تھا اور وہ کہیں فرار نہیں ہوا۔ دلہن کے خاندان نے بھی ان افواہوں کو جھٹلاتے ہوئے وضاحت دی کہ نوبیاہتا جوڑا ہنی مون پر گیا ہوا ہے۔ دوسری جانب، فوٹوگرافی کمپنی کی شکایت پر مقامی حکام نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔