پنجاب حکومت کی سخت کارروائی، مذہبی جماعتوں اور غیر قانونی اسلحہ پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
سٹی42: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذہبی جماعت کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کے ثبوت میڈیا کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس جماعت نے پولیس سے چھینا گیا اسلحہ اور سامان پولیس کے خلاف استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہوئے۔ عظمیٰ بخاری نے گولیوں، زخمی اہلکاروں اور جائے وقوعہ کی ویڈیوز اور تصاویر میڈیا کے سامنے پیش کیں۔
خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار
ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2021 میں بھی اسی مذہبی جماعت نے پولیس سے اسلحہ چوری کیا تھا اور اس بار بھی وہی چوری شدہ اسلحہ استعمال کیا گیا۔ جماعت کی جانب سے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد شیئر کیا گیا جو عوامی انتشار کا باعث بنا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ انتہاپسند سوچ اور گروہوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، اور یہ کسی مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اقدام ہے۔
لاہور دنیاکے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ زبردستی ہڑتال کرانے، دکانیں بند کروانے یا ٹرانسپورٹ روکنے کی کسی بھی کوشش پر سخت کارروائی کی جائے گی، اور ایسے اقدامات کرنے والوں پر دہشت گردی کے مقدمات درج ہوں گے۔ انتہاپسند تنظیموں کی تشہیر، پوسٹرز، فلیکس یا دیگر اشتہارات لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مسجد بند نہیں کی گئی، نماز جمعہ معمول کے مطابق ادا ہوگی۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ غیر قانونی افغانیوں اور مذہبی انتہاپسندوں کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے شہری 15 پر کال کر سکتے ہیں، اور معلومات فراہم کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تمام غیر ملکی اور غیر قانونی افراد کے کاروبار اور رہائش سے متعلق تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، اور ہر ضلع میں ایسے افراد کو منتقل کرنے کے لیے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی شہری کو پراپرٹی لیز یا کرائے پر دینا قانونی جرم ہے اور اس پر کارروائی ہو گی۔
برقعہ پوش خواتین قیمتی انگوٹھیوں کا باکس چوری کر کے فرار
عظمیٰ بخاری نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ کسی غلط سرگرمی میں شامل نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتوں نے اسلام کا نام استعمال کر کے غیر مسلموں کے ساتھ ظلم کیا، حالانکہ اسلام محبت، رواداری اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ کی کوئی گنجائش نہیں، ایسے سپلائرز کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ صوبے سے غیر قانونی اسلحہ کا خاتمہ حکومت کا ہدف ہے، کیونکہ اتنے ہتھیاروں کے ہوتے امن قائم نہیں رہ سکتا۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق مریم نواز کی ہدایت پر ایک پروسیکیوشن سیل قائم کیا گیا ہے جو نقصان کا مکمل تخمینہ لگائے گا، زخمیوں، چوری شدہ سامان اور تباہی کی تفصیلات مرتب کرے گا۔
پنجاب حکومت کا لاؤڈ سپیکر ایکٹ کا نفاذ لازمی اور مزید سخت کرنے کا فیصلہ
صوبائی وزیر نے بتایا کہ پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ 10 لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کے پاس انفرادی اسلحہ لائسنس ہیں، 28 اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں، 37 ہزار اسلحہ لائسنس سیکیورٹی کمپنیوں اور 42 ہزار مختلف اداروں کے نام پر جاری ہیں۔ تمام لائسنس یافتہ اسلحہ کو خدمت مراکز میں رجسٹر کرانا لازمی ہے جبکہ غیر قانونی اسلحہ کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے سرنڈر کرنا ہو گا۔
امریکا نے روس کی 2 بڑی تیل کمپنیوں پر پابندیاں عائد
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ افغان یا کسی بھی غیر قانونی باشندے کو جلد ملک سے واپس بھیجا جائے گا۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو ایسے کاموں سے روکیں جن کا نتیجہ سنگین ہو سکتا ہے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ انتہاپسند جماعت سے متعلق حتمی فیصلہ وفاقی حکومت جلد کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 انہوں نے کہا کہ کے خلاف کسی بھی
پڑھیں:
نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔
نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔
پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثراتہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
امریکی حکومت کا مؤقفامریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔
تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل
لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟
اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا