پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ، انتہا پسندی اور ڈالا کلچر کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا، اور کسی کو بھی پنجاب کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں اس وقت 10 لاکھ سے زائد افراد کے پاس اسلحہ موجود ہے، جبکہ حکومت نے اسلحہ کے نظام کو منظم بنانے کے لیے بڑے فیصلے کیے ہیں۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق 28 اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں، جبکہ جن ڈیلرز کے پاس قانونی لائسنس نہیں تھے، ان کی دکانیں سیل کر دی گئی ہیں۔ مزید 90 ڈیلرز کے لائسنسوں کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
مزید پڑھیں:عظمیٰ بخاری فیک ویڈیو کیس: 4 ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری، جائیدادیں منجمد ہونگی
انہوں نے کہا کہ اب کسی کو نیا اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا، اور جن شہریوں کے پاس قانونی اسلحہ ہے، انہیں خدمت مراکز پر رجسٹریشن کرانا لازم ہوگا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ غیر ضروری اسلحہ، ڈالا کلچر اور مافیاز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جا رہی ہے، اور حکومت صوبے کے امن کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مذہبی جماعت کے حالیہ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد، گاڑیاں چھیننے اور املاک کو جلانے کے واقعات پیش آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کسی بھی بلوائی کو ہار پہنا کر گھر نہیں بھیجا جائے گا۔
مزید پڑھیں:اب معافی آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو مانگنی چاہیے، عظمیٰ بخاری کا حسن مرتضیٰ کے بیان پر ردعمل
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کیس کسی مخصوص جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے مہذب، مسلم اور باشعور شہریوں کا کیس ہے۔ یہ ان عناصر کے خلاف ہے جو بندوق اور گولی کے زور پر اپنی رائے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام باشعور اور ذمہ دار شہریوں کو اس مہم کا حصہ بننا چاہیے۔ ہڑتال یا زبردستی کاروبار بند کرانے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہوں گے۔ کسی مارکیٹ یا ٹرانسپورٹر کو زبردستی بند کرانے کی کوشش پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عام شہریوں اور فیملیز کے ساتھ بدتمیزی ناقابلِ برداشت ہے، اور صوبائی حکومت ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیں:عظمیٰ بخاری ماسی مصیبتے بن گئی ہیں، قرۃ العین مری کا طنز
انہوں نے مزید بتایا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف کومبنگ آپریشن جاری ہے، جبکہ لاؤڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عظمیٰ بخاری نے انکشاف کیا کہ اشتعال انگیزی پھیلانے والے 75 غیر قانونی آن لائن لنکس کو بلاک کیا گیا ہے تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیزی اور پروپیگنڈے کو روکا جا سکے۔ انتہا پسند جماعت کے مستقبل کے حوالے سے وفاقی حکومت جلد فیصلہ کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتہا پسندی ڈالا کلچر عظمیٰ بخاری غیر قانونی اسلحہ وزیر اطلاعات پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتہا پسندی ڈالا کلچر وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔