وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی سے متعلق فیصلہ کچھ دیر میں وفاقی حکومت کی جانب سے متوقع ہے۔

ڈی جی پی آر میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کہنا تھا کہ  صوبے کے امن کے لیے ہر اقدام اٹھائیں گے، پنجاب کے امن کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہتھیار بندجتھوں کو ریاستی رٹ چیلنج نہیں کرنے دیں گے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہمارا دین ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیتا ہے، پنجاب میں اس وقت 10لاکھ سے زائد افراد کے پاس اسلحہ موجود ہے، 28 اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کردیے گئے ہیں، اب کوئی نیا اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ جن اسلحہ ڈیلرز کے پاس لائسنس نہیں تھا ان کی دکانیں سیل کردی گئی ہیں، 511اسلحہ ڈیلرز نے لائسنس کی توثیق کے لیے درخواست دی، 90اسلحہ ڈیلرز کے کاغذات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک انتہا پسند جماعت کے مقدر کا فیصلہ کچھ دیر میں وفاق کرے گا، غزہ اور فلسطین کی آزادی کے لیے نکلنے والوں نے املاک کو جلایا، پنجاب میں 10لاکھ12ہزار454افراد کے پاس انفرادی اسلحہ لائسنس ہے، جن کے پاس اسلحہ لائسنس ہے وہ اسے خدمت مراکز میں رجسٹرڈ کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ  ٹی ایل پی سے متعلق فیصلہ کچھ دیر میں وفاقی حکومت کی جانب سے متوقع ہے جب کہ رضوی برادران کی گرفتاری انسانی جانوں کے تحفظ پر کرنی ہے، دونوں بھائیوں کی گرفتاری جلد کرلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، پولیس اہلکاروں کی گاڑیاں چھینی گئیں، شہری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصلہ کچھ دیر میں اسلحہ ڈیلرز نے کہا کے پاس

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی