آزاد کشمیر میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام حال ہی میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے جہاں ریاست میں افراتفری کو جنم دیا، وہیں فورم کے قائدین ذاتی مقاصد حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہے۔

جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک میں ظاہری طور پر عوامی حقوق کے نام پر چارٹر آف ڈیمانڈ سامنے لایا گیا تھا، تاہم اس کے پس پردہ کچھ اور معاملات بھی تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کو 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جن میں سے 90 فیصد مطالبات احتجاج سے قبل ہی مان لیے گئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی احتجاج پر بضد رہی۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے 29 ستمبر کو آزاد کشمیر بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا آغاز کیا، جو 4 اکتوبر کو مذاکرات کی کامیابی کے بعد ختم ہوئی۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ملک میں نہ ہونے کے باوجود آزاد کشمیر میں افراتفری کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزرا سمیت سینیئر رہنماؤں پر مشتمل وفد کو مظفرآباد پہنچ عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کرنے کی ہدایت کی۔

وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام کی سربراہی میں طارق فضل چوہدری، راجا پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ اور سردار مسعود نے مظفرآباد جاکر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے۔

3 اور 4 اکتوبر کی درمیانی رات کو وفاقی مذاکراتی کمیٹی، عوامی ایکشن کمیٹی اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا جس کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

یہاں یہ واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دو اہم مطالبات میں آزاد کشمیر اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی نشستوں کا فوری خاتمہ اور حکمران طبقے کی مراعات میں کمی کا فوری نوٹیفکیشن تھا، تاہم ان دونوں معاملات پر کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا، جبکہ دیگر مطالبات بھی تسلیم کرلیے گئے۔

’جو مطالبات پہلے مان لیے گئے تھے 12 جانوں کے ضیاع کے بعد بھی انہی پر اتفاق ہوا‘

اس سے پہلے جب احتجاج سے قبل وزیر امور کشمیر امیر مقام اور طارق فضل چوہدری مظفرآباد گئے تھے تو انہی باتوں پر اتفاق کرلیا تھا، لیکن ایکشن کمیٹی نے 12 قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد پرانے تسلیم شدہ مطالبات پر ہی معادہ کرلیا۔ ’یہ تمام مطالبات بغیر احتجاج کے بھی تسلیم کرلیے گئے تھے۔‘

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان کشمیری مہاجرین کی اسمبلی نشستوں کے معاملے پر کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا، ایکشن کمیٹی کو ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی کہ یہ نشستیں ختم کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ پاکستان کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں مہاجرین کی 12 نشستوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا کیونکہ یہ براہِ راست کشمیر کاز سے جڑا معاملہ ہے۔ تاہم پاکستانی ادارے گورننس کی بہتری، کرپشن کے خاتمے اور عوامی فلاح و بہبود کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔

2023 میں معرض وجود میں آنے والی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کوئی چیئرمین یا اس کی باڈی نہیں بلکہ ڈویژنز اور اضلاع کی بنیاد پر کور ممبران ہیں۔

مظفرآباد ڈویژن سے معروف تاجر رہنما شوکت نواز میر، راولاکوٹ سے سردار عمر نذیر کشمیری اور میرپور ڈویژن سے خواجہ مہران احتجاج کو لیڈ کررہے تھے۔

وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات میں یہ طے پایا کہ تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کے لیے ہر 15 روز بعد فالو اپ میٹنگ ہوگی، جس کی صدارت وزیر امور کشمیر امیر مقام کریں گے۔

اس سلسلے میں پہلی فالو اپ میٹنگ 21 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام، طارق فضل چوہدری اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے آئندہ فالو اپ میٹنگ مظفرآباد میں ہوگی۔

’آزاد کشمیر میں ڈویژنز کی بنیاد پر تفریق پیدا ہونے کا خدشہ‘

یہاں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں الگ الگ امتحانی بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حالانکہ یہ مطالبات چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل نہیں تھے۔

اس سے قبل آزاد کشمیر میں ایک ہی تعلیمی بورڈ ہے جس کا ہیڈ آفس میرپور میں ہے، جبکہ مظفرآباد اور راولاکوٹ میں انتظامی دفاتر موجود ہیں۔

مظفرآباد اور راولاکوٹ میں نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کے فیصلے پر میرپور ڈویژن کے عوام کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ اگر میرپور بورڈ کو تقسیم ہی کرنا ہے تو پھر دیگر اداروں کی تقسیم بھی اسی طرح ہونی چاہیے۔ اس ساری صورت حال میں آزاد کشمیر میں ڈویژنز کی بنیاد پر تفریق پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے عوامی حقوق کے نام پر کیا جانے والا احتجاج پہلے روز سے ہی پرتشدد رہا، جس میں 3 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد جان سے چلے گئے۔

29 ستمبر کو عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کے جواب میں آزاد کشمیر کی معروف سیاسی جماعت مسلم کانفرنس نے مظفرآباد میں امن مارچ نکالا، جہاں ایکشن کمیٹی میں موجود شرپسند عناصر نے ان پر پتھراؤ اور فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے، اور مارچ کو لیڈ کرنے والے راجا ثاقب مجید نے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے مارچ ختم کردیا۔

آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران 3 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق ہوئے، احتجاج میں شامل شرپسند عناصر کے پاس اسلحہ اور کیلوں والے ڈنڈے موجود تھے۔

جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بنیادی طور پر ریاست کے تاجروں کا ایک اتحاد ہے، جنہوں نے اس سے قبل مئی 2024 میں ایک احتجاج کے دوران آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کروائی تھی۔

’آزاد کشمیر میں بجلی 3 روپے یونٹ، پھر بھی بلات کی ادائیگی بہت کم‘

آزاد کشمیر میں اس وقت گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 3 روپے جبکہ آٹا 40 کلو 2 ہزار روپے میں میسر ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب انتظامیہ جعل سازی کرنے والے تاجروں پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سوچے گی کہ کہیں جتھہ سرکاری اہلکاروں پر حملہ آور تو نہیں ہو جائےگا۔

’آزاد کشمیر غیرمعیاری اشیائے خورونوش کی سب سے بڑی منڈی‘

آزاد کشمیر غیرمعیاری اشیائے خورونوش کی سب سے بڑی منڈی ہے، لوگوں کو ایسی اشیا فروخت کی جارہی ہیں جن سے بیماریاں عام ہو چکی ہیں لیکن کوئی ایسے عناصر پر ہاتھ نہیں ڈال رہا۔

ریاست کے تاجروں پر مشتمل ایکشن کمیٹی نے بجلی تو سستی کروا لی لیکن اس کا عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا، اس کے علاوہ یہ طبقہ ٹیکس چوری میں بھی سرفہرست ہے، اور اب ان کو مزید تحفظ مل گیا ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے مطابق بجلی 3 روپے یونٹ ہونے کے بعد طلب میں اضافہ ہوگیا ہے، لیکن اس کے باوجود لوگ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا نہیں کررہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق شروع سے ہی اس تحریک کو بھارتی فنڈڈ قرار دے رہے تھے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اسے ریاست میں افراتفری کی کوشش قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کے دوران بھارتی میڈیا پروپیگنڈا کرتا رہا، جبکہ بھارتی سیاسی قیادت یہ دعویٰ کرتی رہی کہ ریاست میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ ان کے منصوبے کے عین مطابق ہے۔

یہاں ایک بات واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کا احتجاج اپنے حکمرانوں کے خلاف تھا، بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے اس پروپیگنڈے میں کوئی حقیقت نہیں کہ یہ احتجاج ریاست پاکستان کے خلاف تھا۔ ’تحریک میں شامل کچھ شرپسند عناصر نے کچھ متنازعہ باتیں ضرور کیں، لیکن ایسے لوگ مٹھی بھر ہیں۔‘

’ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا پاکستان مخالف عناصر سے لاتعلقی‘

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ کوئی کمزور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ایسے لوگوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا جو ریاست پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں۔

ایکشن کمیٹی کی تحریک میں اوورسیز سے آنے والے فنڈز کا حساب کون دے گا؟

ایکشن کمیٹی کی تحریک کے دوران چونکہ ریاست بھر سے ہزاروں لوگ 29 ستمبر سے 4 اکتوبر تک سڑکوں پر رہے، اس دوران ان کے اخراجات کے لیے فنڈز اکٹھے کیے گئے تھے، جس میں اوورسیز کشمیریوں کا اہم کردار تھا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اوورسیز کشمیریوں سے لیے گئے فنڈز کا کوئی آڈٹ ہوا یا نہیں؟ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر میں افراتفری کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایک جماعت کی مضبوط حکومت قائم ہو، اور ایسا شخص قائد ایوان ہو جو حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اس وقت ریاست میں کسی ایک پارٹی کی حکومت نہیں۔ آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم چوہدری انوارالحق کا تعلق پی ٹی آئی فارورڈ بلاک سے ہے، جبکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ان کی اتحادی جماعتیں ہیں اور اپوزیشن کا کوئی وجود ہی نہیں۔

’آزاد کشمیر میں اپوزیشن کا وجود نہ ہونے کے باعث افراتفری کا ماحول پیدا ہوا‘

آزاد کشمیر میں اپوزیشن کا کوئی وجود نہ ہونے کے باعث یہ خلا عوامی ایکشن کمیٹی نے پُر کرلیا اور ریاست میں افراتفری پیدا ہوئی، جس کے لیے سیاسی حلقوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔

ایک روز قبل پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں گے اور ریاست میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

آزاد کشمیر میں عام انتخابات آئندہ برس جولائی میں ہوں گے، جس کے لیے سیاسی جماعتوں نے تیاریاں شروع کر دی ہیں، اور جگہ جگہ شمولیتی پروگرام ہو رہے ہیں۔

ایکشن کمیٹی کی تحریک کے بعد ریاست میں قانون کی پاسداری معمہ بن گیا، زاہد عباسی

زاہد عباسی کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے، جو سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ سے منسلک ہیں، اور ریاست کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں، نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایکشن کمیٹی جو 38 نکات لے کر نکلی تھی ان میں سے کچھ تو عوامی حقوق سے متعلق تھے، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان لوگوں کا مقصد عوام کو ریلیف دلانا بھی تھا یا نہیں؟

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایکشن کمیٹی کی تحریک کے دوران آزاد کشمیر میں انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اس سے قانون کی پاسداری ایک معمہ بن گیا ہے۔

’اب جس کے پاس افرادی قوت ہوگی وہ قانون کو یوں ہی گھر کی لونڈی سمجھے گا۔ قانون کی عملداری اس کے احترام کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے، ورنہ دنیا میں کہیں اتنی تعداد پولیس اہلکاروں کی نہیں ہوتی کہ ایک فرد کے لیے ایک اہلکار ہو۔‘

زاہد عباسی نے کہاکہ ایکشن کمیٹی کی تحریک کے دوران جتھہ گردی نے ثابت کیا کہ وہ قانون کا احترام سرے سے نہیں کرتے، دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس تحریک میں فرنٹ سے لیڈ کرنے والا تاجر طبقہ تھا جو زیادہ تر پیٹ سے سوچتا ہے۔

’جعل سازی میں آزاد کشمیر کے تاجروں کا کوئی ثانی نہیں‘

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں جعل سازی، ناجائز منافع خوری، دو نمبر اشیا کی فروخت اور ٹیکس چوری ان تاجروں کی پہچان ہے۔ ان لوگوں میں شاید اتنی اہلیت نہیں تھی کہ اس جتھے کو صرف عوامی حقوق تک ہی سنبھال کر رکھتے، ان کی اس کمزوری کا فائدہ قوم پرستوں نے بھرپور اٹھایا اور اس تحریک پر اپنے مخصوص انداز میں مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’آزاد کشمیر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہیں گے‘، وفاقی مذاکراتی کمیٹی اسلام آباد پہنچ گئی

انہوں نے کہاکہ تاجروں پر مشتمل ایکشن کمیٹی نے وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس میں اپنے 38 نکات تو وہ بھول ہی گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آزاد کشمیر امیر مقام ایکشن کمیٹی تحریک شہباز شریف کشمیری مہاجرین وزیر امور کشمیر وزیراعظم پاکستان وفاقی مذاکراتی کمیٹی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی تحریک شہباز شریف کشمیری مہاجرین وزیراعظم پاکستان وفاقی مذاکراتی کمیٹی وی نیوز جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایکشن کمیٹی کی تحریک کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے وفاقی مذاکراتی کمیٹی عوامی ایکشن کمیٹی کی ایکشن کمیٹی نے ا زاد کشمیر کے میں افراتفری عوامی حقوق کی جانب سے ریاست میں تحریک میں پر اتفاق انہوں نے نے کہاکہ کا کوئی نہیں کر پیدا ہو کیا گیا نے والے گئے تھے لیے گئے ہونے کے کمیٹی ا کے ساتھ کے لیے گیا ہے کہ ایک کے بعد

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر توانائی کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہدایت
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان