شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن: خطرناک کمانڈر سمیت 10 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
شمالی وزیرستان علاقے ٹنگ کلی( دتہ خیل) میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا .جس میں 6 خوارج کو جہنم واصل کردیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو مضافاتی علاقوں میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں. جس کے پیش نظر 8 سے 10 روز تک علاقے کی بھرپور نگرانی کی گئی۔16 اکتوبر کو سیکیورٹی فورسز نے ان دہشتگردوں کو گھیرے میں لے کر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا.
گزشتہ چار روز میں افغان طالبان کے بھیجے گئے 94 خوارج جہنم واصل کئے جا چکے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز اور مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔
دریں اثناسیکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں فتنۃ الخوارج کی سیکڑوں کلو گرام بارود سے بھری گاڑی پکڑ لی۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوارج نے گاڑی کو باجوڑ میں سول آبادی میں لے جاکر دھماکے سے اڑانا تھا. سیکیورٹی فورسز نے گاڑی کو تباہ کر دیا۔واقعے میں سیکیورٹی فورسز یا عوام کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا. یہ بارود افغانستان سے پاکستان اسمگلنگ کے مال کے ساتھ لایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ پاک فوج نے گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں دراندازی کی کوشش کرنے والے فتنۃ الخوارج کے 45 سے 50 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔
گزشتہ روز ہی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 13 سے 15 اکتوبر 2025 کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں بھارتی ایجنسیوں کے زیر اثر دہشت گرد تنظیم ’الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 34 دہشت گرد مارے گئے۔ترجمان پاک فوج نے بتایا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 18 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے تھے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جنوبی وزیرستان میں کیا گیا، جہاں فائرنگ کے تبادلے کے دوران 8 دہشت گرد مارے گئے تھے جبکہ تیسری جھڑپ ضلع بنوں میں ہوئی تھی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مزید 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الخوارج
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس