میر علی میں سیکورٹی فورسز پر خودکش حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی اور بروقت جوابی کارروائی میں 4 دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرعلی میں دہشت گردوں کی جانب سے خودکش حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی حملہ ایک بارودی گاڑی کے ذریعے سیکورٹی کیمپ کی دیوار کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا۔

اس دھماکے کے فوراً بعد چند مسلح افراد نے کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی نے دہشت گردوں کے عزائم  کو ناکام بنا دیا۔

حکام نے بتایا کہ دھماکے کے بعد 3 دیگر حملہ آوروں نے کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی مگر سیکورٹی فورسز نے موثر ردِعمل کرتے ہوئے انہیں موقع پر ہی ختم کر دیا۔

سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فورسز کو اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا اور تمام اہلکار محفوظ ہیں۔ واقعے کی جگہ پر موجود حکام نے صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے فوری طور پر اضافی دستے تعینات کر دیے اور کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا گیا تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا بچ جانے والے حملہ آور کو ختم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 2 روز کے دوران دہشت گرد عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں کی گئی ہیں  اور اس دوران مجموعی طور پر 88 حملہ آور ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا نتیجہ ہیں اور ریاست مسلح عناسر عناصر کے خاتمے تک نہیں کارروائیاں جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کی کوشش

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق