data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کروشیا کے ساحل پر ایک ایسا انوکھا تاریخی انکشاف ہوا ہے جس نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو حیرت میں ڈال دیا۔

ساحل پر دو ہزار سال قبل سمندری طوفان کے باعث غرق ہونے والا ایک رومی جہاز سمندر کی تہ سے تقریباً مکمل حالت میں دریافت کر لیا گیا ہے۔ اس قدیم جہاز کی لکڑی اور ساخت ایسی محفوظ ہے کہ دیکھنے والوں کو یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ یہ دو ہزار برس پرانا ملبہ ہے۔

یہ شاندار دریافت کروشیا کے مشہور ڈیلماشین کوسٹ کے قریب ہوئی، جہاں محققین  کی جانب سے کئی سال کی تحقیق کے بعد جہاز کا پورا ڈھانچہ منظرِ عام پر لایا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق اس رومی جہاز کی لکڑی آج بھی ایسے چمک رہی ہے جیسے اسے حال ہی میں تراشا گیا ہو۔

تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ سمندری مٹی اور کم آکسیجن والے ماحول نے جہاز کو وقت کے اثرات سے بچائے رکھا، جس کی بدولت یہ اپنی اصل حالت میں محفوظ رہا۔

یہ دریافت دراصل 2020 میں شروع ہوئی تھی، جب غوطہ خوروں نے سمندر کی گہرائی میں ایک لکڑی کا ٹکڑا دریافت کیا جس میں دھاتی کیل لگی ہوئی تھی۔ اس اشارے سے محققین کو شبہ ہوا کہ یہاں کسی قدیم جہاز کا ملبہ دفن ہو سکتا ہے۔ پانچ سال کی مسلسل کھدائی، تحقیق اور جدید سونار ٹیکنالوجی کے استعمال کے بعد بالآخر وہ پورا جہاز سامنے آ گیا۔

جہاز تقریباً 42 فٹ طویل ہے اور اس کے اندر سے بڑی تعداد میں قدیم رومی سکے بھی برآمد ہوئے ہیں، جو اس دور کی تجارت، معیشت اور سمندری راستوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جہاز غالباً رومی سلطنت کے دور میں تجارتی سامان لے کر سفر پر نکلا تھا مگر شدید طوفان میں ڈوب گیا۔

کروشیا کے آثارِ قدیمہ کے ادارے نے اس دریافت کو بحیرہ ایڈریاٹک میں ہونے والی سب سے بڑی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جہاز نہ صرف رومی دور کی انجینئرنگ کا نادر نمونہ ہے بلکہ قدیم سمندری تجارت کے رازوں کو بھی بے نقاب کرے گا۔

اب ماہرین اس تاریخی جہاز کو سمندر کی تہ سے نکال کر محفوظ کرنے اور میوزیم میں نمائش کے لیے تیار کر رہے ہیں تاکہ دنیا بھر کے سیاح اس شاندار رومی ورثے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کروشیا کے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان