ریاستی رِٹ کے نام پر زبان بندی، پارٹیوں پر پابندی، اجارہ داری تسلیم نہیں، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سرگودھا:۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں، جلسے جلوسوں پر پابندی اور زبان بندی کرکے ریاست اپنی رِٹ قائم کرنا چاہتی ہے۔ الیکشن میں دھاندلی ہو یا فارم 47 والے مسلط کردیے جائیں، عوام کے بولنے پر پابندی ہے۔ حکومت اور ریاست کی رِٹ کے نام پر ذاتی اجارہ داریوں کے قیام کو تسلیم نہیں کریں، جماعت اسلامی نوجوانوں سے مل کر فرسودہ نظام کو پرامن مزاحمت کے ذریعے جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرگودھا میں بنو قابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، امیر ضلع اویس قاسم سیکرٹری جنرل الخدمت فاﺅنڈیشن وقاص انجم جعفری، صدر الخدمت فاﺅنڈیشن شمالی پنجاب رضوان احمد نے بھی خطاب کیا جبکہ الخدمت بنو قابل کے ڈائریکٹر عمیر ادریس بھی اس موقع پر موجود تھے۔
الخدمت پاکستان کے زیراہتمام بنوقابل پروگرام کے تحت فری آئی ٹی کورسز میں داخلہ کے لیے ہزاروں طلبا وطالبات نے امتجان دیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اعلان کیا کہ بنو قابل کا ابتدائی ہدف ملک بھر میں دس لاکھ بچوں کو کورسز کروانے کا تھا تاہم اب تک اس پروگرام کے لیے گیارہ لاکھ بچوں نے رجسٹریشن کروا دی، جوش و خروش اور جذبے کے پیش نظر فیصلہ کیا ہے کہ اب بنوقابل سے بیس لاکھ بچوں کو تربیت فراہم کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے امتحان میں شرکت کرنے والے بچوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بنو قابل گیم چینجر (game changer) ثابت ہوگا۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک پر تین دہائیوں سے زائد جرنیلوں نے حکومت کی اور بقیہ عرصہ انہی کے مسلط کردہ حکمران ملک چلاتے رہے۔ جاگیردار، وڈیرے، وراثت، وصیت اور شخصی تسلط سے چلنے والی سیاسی پارٹیاں اور سول و ملٹری بیوروکریسی عوام کو مسلسل بے وقوف بنا رہے ہیں، نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا، وہ بیرون ملک جارہے ہیں، غریبوں پر تعلیم کے دروازے بند ہیں، صحت کی سہولیات اور امن ناپید ہوگیا، گیارہ کروڑ عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، عدالتیں انصاف فراہم نہیں کررہیں، مسلط حکمران اشرافیہ تسلیم کرے کہ یہ نالائق اور ناکام ہے، یہ ملک نہیں چلا سکتے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ نئی نسل انقلاب کے لیے تیار ہوجائے، پرامن مزاحمت سے اس نظام سے جان چھڑانا ہوگی۔ جماعت اسلامی کا 21، 22 اور 23 نومبر کو مینار پاکستان کے سائے تلے عظیم الشان تاریخی اجتماع عام ہوگا، سب کو شرکت کی دعوت دیتا ہوں، یقین سے کہتا ہوں کہ نومبر کا اجتماع ملک میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ نالائق حکمرانوں نے نوجوانوں پر تعلیم کے مواقع بند کردیے، نوجوانوں کو پاکستان میں مواقع ملیں تو یہ ملک سے باہر نہیں جائیں گے۔ مرکزی و صوبائی حکومتوں میں نورا کشتی چل رہی ہے، یہ حکومتیں جواب دیں کہ پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر کیوں ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت اتنی بڑی تعداد کو مفت تعلیم فراہم کرسکتی ہیں تو یہ کام حکومتیں کیوں نہیں کررہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے امیر جماعت اسلامی
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔