منعم ظفر کو بھی حافظ نعیم کی طرح ہروقت رونے کی بیماری لگ گئی ہے، کرم اللہ وقاصی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
ترجمان میئر کراچی نے کہا کہ اگر واقعی جماعت اسلامی کو عوام کی فکر ہے تو وہ سیاست برائے تنقید چھوڑ کر عملی خدمت کا راستہ اپنائے، حافظ نعیم کے آنسو پونچھنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ان کے حل کے لیے سڑکوں، نکاسیِ آب، اور صفائی کے نظام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ کے ایم سی میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر و ترجمان میئر کراچی کرم اللہ وقاصی نے گزری مچھی پاڑہ اور اطراف کی گلیوں میں کے ایم سی کی جانب سے جاری کردہ پیور بلاک واہ دیگر کاموں کا جائزہ لینے کے دوران شہریوں و میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان کے حالیہ الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ منعم ظفر نے حافظ نعیم کا رونا دھونا سنبھالنے کے بجائے شہر کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہوتا تو آج کراچی کے حالات مختلف ہوتے۔ کرم اللہ وقاصی نے کہا کہ جماعت اسلامی کو کراچی کے مسائل پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں، کیونکہ یہ وہی جماعت ہے جو ہر دور میں تنقید کے سہارے سیاست کرتی آئی ہے مگر عملی کارکردگی کے میدان میں صفر ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جماعت اسلامی کے رہنما اب حافظ نعیم کے ترجمان بنے پھر رہے ہیں، ان کی واحد سیاست ٹی وی کیمروں کے سامنے بیانات دینے اور سوشل میڈیا پر مظلومیت کا ڈرامہ کرنے تک محدود ہے۔
پیپلزپارٹی رہنما نے واضح کیا کہ کراچی میں جو بھی ترقیاتی منصوبے مکمل ہو رہے ہیں، وہ بلاول بھٹو زرداری اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے وژن کا نتیجہ ہیں، جنہوں نے بلا تفریق عوامی خدمت کو اپنا منشور بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی والوں کو کراچی کی سڑکوں، پانی یا صفائی کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہانے سے پہلے اپنے زیرِانتظام علاقوں کی حالت دیکھنی چاہیئے، جہاں جماعت اسلامی کے چیئرمین بیٹھے ہیں، وہاں کے نالے بند ہیں، گلیاں کچرے سے بھری ہیں، اور عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں۔ کرم اللہ وقاصی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی اور بلدیاتی قیادت نے عملی اقدامات کے ذریعے خدمت کی سیاست کو فروغ دیا ہے، ہم احتجاج نہیں کرتے، خدمت کرتے ہیں۔ ہم بینرز نہیں لگاتے، سڑکیں بناتے ہیں۔ ہم الزام نہیں لگاتے، عوامی فلاح کے منصوبے مکمل کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا شہر ہے اور پارٹی قیادت اس شہر کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ کرم اللہ وقاصی نے منعم ظفر کو مشورہ دیا کہ اگر واقعی جماعت اسلامی کو عوام کی فکر ہے تو وہ سیاست برائے تنقید چھوڑ کر عملی خدمت کا راستہ اپنائے، حافظ نعیم کے آنسو پونچھنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ان کے حل کے لیے سڑکوں، نکاسیِ آب، اور صفائی کے نظام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کی جانب سے کراچی کے مختلف اضلاع میں 106 شاہراہوں کی بحالی، نالوں کی تعمیر، اور سڑکوں کی کارپیٹنگ کا کام جاری ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت زبانی نہیں بلکہ عملی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرم اللہ وقاصی نے جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔