پاکستان نیوی کا اسمگلنگ کے خلاف شاندار آپریشن، 972 ملین ڈالرز مالیت کی منشیات ضبط
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
پاکستان نیوی نے منشیات کے خلاف شاندار آپریشن کرتے ہوئے 972 ملین امریکی ڈالرز مالیت کی منشیات ضبط کرلی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نیوی کے جہاز پی این ایس یرموک نے سعودی قیادت میں قائم کومبائنڈ ٹاسک فورس 150 (CTF-150) کے تحت شمالی بحیرہ عرب میں ایک کامیاب انسدادِ منشیات آپریشن کیا، آپریشن کے نتیجے میں تقریباً 972 ملین امریکی ڈالر مالیت کی منشیات ضبط کی گئیں۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ یہ کامیابی پاکستان نیوی کے علاقائی سمندری سلامتی، عالمی امن اور سمندروں میں غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف اجتماعی جدوجہد کے عزم کی واضح مثال ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پی این ایس یرموک نے یہ کارروائی کومبائنڈ میری ٹائم فورسز کے حصے کے طور پر انجام دی، جو سمندری استحکام کو یقینی بنانے اور دہشت گردی و غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام پر مرکوز ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کامیاب آپریشن پاکستان کے بطور ایک ذمہ دار سمندری شراکت دار کردار کو مزید اجاگر کرتا ہے، بحرِ ہند کے وسیع تر خطے میں امن و سلامتی کے فروغ میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے پی این ایس یرموک کے عملے کو پیشہ ورانہ مہارت اور عزم و استقلال پر سراہا اور کہا کہ پاکستان نیوی قومی سمندری مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مشترکہ سمندری سلامتی کی کوششوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔
نیول چیف نے کہا کہ سعودی قیادت میں اس کامیاب آپریشن سے دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعاون اور انٹرآپریبلٹی میں مزید اضافہ ہوگا، جو پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔
کامیاب انسدادِ منشیات کارروائی پر صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کی مبارکباد
ایوان صدر سے جاری بیان میں صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان نیوی کا یہ کارنامہ قومی فخر اور پیشہ ورانہ مہارت کی روشن مثال ہے، یرموک کی کامیابی پاکستان نیوی کے خطے میں امن و استحکام کے عزم کی مظہر ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ انسدادِ منشیات کی یہ بڑی کارروائی عالمی امن اور سمندری سلامتی کے لئے پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے سعودی قیادت میں مشترکہ میری ٹائم ٹاسک فورس کے تحت کی گئی کارروائی کو باہمی تعاون کی عمدہ مثال قرار دیا، صدرِ مملکت نے نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور یرموک کے عملے کو شاندار کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان نیوی کا کردار عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور مثبت تشخص کو مضبوط بنا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بحیرہ عرب میں سعودی قیادت میں سرکردہ کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (CMF) کی کمبائنڈ ٹاسک فورس (CTF-150) کے تحت پی این ایس یرموک کی بڑی کارروائی کے دوران اربوں روپے مالیت کی منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنانے پر پاک بحریہ کے افسران و اہلکاروں کی پزیرائی کی۔
انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ کے افسران و اہلکار پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں، پاک بحریہ کے افسران و جوان ملکی سمندری حدود کی حفاظت کیلئے شب روز مصروف عمل ہیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو پاک بحریہ کے افسران و جوانوں پر فخر ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاک بحریہ کے افسران پی این ایس یرموک مالیت کی منشیات سعودی قیادت میں پاکستان نیوی کہا کہ پاک نے کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔