پاک بحریہ کا بحیرہ عرب میں اینٹی نارکوٹکس آپریشن، 30 لاکھ امریکی ڈالر کی منشیات ضبط
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پاکستان نیوی کے جہاز یمامہ نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے دوران بحیرۂ عرب میں ایک کامیاب اینٹی نارکوٹکس آپریشن انجام دیتے ہوئے 1500 کلوگرام چرس برآمد کی جس کی مالیت تقریباً 30 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔
آئی ایس پی ار کے مطابق سمندر میں منشیات کی اس کامیاب روک تھام سے پاکستان نیوی کے بحری حدود میں غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے پختہ عزم کا واضح اظہار ہوتا ہے۔
پاکستان نیوی قومی بحری مفادات کے تحفظ اور سمندری حدود میں مؤثر نگرانی کے لیے باقاعدگی سے RMSP کے تحت گشت سرانجام دیتی ہے۔ نیوی خطے اور دنیا کے اہم شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ اور مربوط سیکیورٹی اقدامات میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہی ہے جس سے ایک محفوظ اور مستحکم بحری ماحول کو فروغ مل رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔