جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں 55فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈ یسک ) جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران سالانہ بنیادوں پر 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں جننگ فیکٹریوں میں 4056000 گانٹھوں کی آمد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جننگ فیکٹریوں میں 2617000 گانٹھوں کی آمد ریکارڈ کی گئی تھی۔ ستمبر میں فیکٹریوں میں 2060000 گانٹھوں کی آمد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں 118 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں جننگ فیکٹریوں میں 945000 گانٹھوں کی آمد ریکارڈ کی گئی تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق اگست کے مقابلے میں ستمبر میں جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں ماہانہ بنیادوں پر 99.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں جننگ فیکٹریوں میں
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔