ویسٹ انڈیز نے ون ڈے کرکٹ میں ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ڈھاکا:
ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش کے دورے پر ہے جہاں تین میچوں کی ایک روزہ سیریز جاری ہے اور پہلے میچ میں شکست کے بعد دوسرے میچ میں ریکارڈ بنا دیا۔
بنگلہ دیش کے شہر میرپور میں جاری ایک روزہ سیریز کے پہلے میچ میں بنگلہ دیش نے باآسانی ویسٹ انڈیز کو 74 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی تھی جبکہ دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز نے سیریز میں واپسی کے لیے منفرد ریکارڈ قائم کردیا۔
ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے میچ میں پہلے بولنگ کی اور تمام 50 اوورز اسپنرز سے کروائے جو ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا عالمی ریکارڈ ہے۔
میرپور میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز کے 5 اسپنرز نے اپنے کوٹے کے 10،10 اوورز کرائے حالانکہ ٹیم میں فاسٹ بولر رودرفورڈ بھی شامل تھے لیکن انہیں بولنگ کا موقع نہیں دیا گیا۔
View this post on InstagramA post shared by ESPNcricinfo (@espncricinfo)
ویسٹ انڈیز کی جانب سے عقیل حسین نے 10 اوورز میں 41 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں اور ایک اوور میڈن کرایا، روسٹن چیز نے 10 اوور کے کوٹے میں دو میڈن کے ساتھ 44 رنز دیے لیکن وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
گوداکیش موتی نے سب سے زیادہ 65 رنز دیے اور 3 وکٹیں بھی حاصل کیں، خارے پیئر نے کوئی وکٹ حاصل کیے بغیر 10 اوورز میں 43 رنز دیے۔
الیک ایتھانیز نے 10 اوورز میں صرف 14 رنز دے کر دو وکٹیں اپنے نام کیں اور 3 اوور میڈن کرائے۔
آئی سی سی کے مطابق اس سے قبل سری لنکا نے تین مرتبہ سب سے زیادہ 44 اوورز اسپنرز سے کرائے تھے جو ایک روزہ کرکٹ میں عالمی ریکارڈ تھا۔
سری لنکا نے 1996 میں ویسٹ انڈیز، 1998 میں نیوزی لینڈ اور 2004 میں آسٹریلیا کے خلاف 44 اوورز اسپنرز سے کروائے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز بنگلہ دیش ایک روزہ میچ میں
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :