ڈھاکہ کے معروف علاقے میرپور میں پہلے ون ڈے میں بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اسپن کی جنگ کے بعد دوسرے ون ڈے میں ویسٹ انڈیز نے حیران کن حکمت عملی اپنائی۔

یہ بھی پڑھیں: ویسٹ انڈیز کا عروج اور انضمام کی ناقابل شکست اننگز

میرپور کے اسی میدان میں ویسٹ انڈیز نے اننگز کے آغاز سے ہی 5 اسپنرز کا استعمال کیا جو کہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔

اوپن اٹیک سے اینڈ تک صرف اسپنرز ہی وکٹ کے دونوں سروں سے بولنگ کرتے دکھائی دیے۔

ویسٹ انڈیز کا اسپن پر انحصار، منفرد حکمت عملی

پہلے ون ڈے میں شکست کے بعد جہاں بنگلہ دیشی اسپنرز نے میچ پر گرفت مضبوط رکھی ویسٹ انڈیز کی ٹیم دوسرے میچ میں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتری۔ انہوں نے صرف ایک یا 2 نہیں بلکہ 5 اسپنرز کو استعمال کیا جنہوں نے اننگز کے ابتدائی اوورز سے بولنگ کی۔

یہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں صرف 5واں موقع ہے کہ کسی فل رکن ٹیم نے دونوں اینڈز سے اسپنرز کے ذریعے اننگز کا آغاز کیا ہو۔

اس سے قبل یہ منظر 3 بار ڈھاکہ میں ہی دیکھا گیا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے 2 بار سنہ 2018 میں اور ایک بار سنہ 2022 میں۔ اس کے علاوہ صرف ایک بار ایسا نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان سنہ 2017 میں ہملٹن میں ہوا جب جیتان پٹیل اور مچل سینٹنر نے بولنگ کا آغاز کیا۔

مزید پڑھیں: ویسٹ انڈیز کی تاریخ ساز فتح، 34 سال بعد پاکستان کے خلاف سیریز جیت لی

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ آج سے پہلے صرف 5 بار کسی کپتان نے ابتدائی 4 بولرز اسپنرز کے طور پر استعمال کیے اور وہ تمام مواقع ایسوسی ایٹ ٹیموں کے درمیان ہوئے۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ فل رکن ممالک کے درمیان کسی ون ڈے میچ میں ابتدائی 5 بولرز اسپنرز ہوں یعنی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔

ڈھاکہ کی پچ کی سست رفتار اور گھماؤ کے پیش نظر یہ حکمت عملی سودمند ثابت ہوئی۔ ویسٹ انڈیز نے خاص طور پر ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپنر عقیل حسین کو کیریبین سے بلا کر ٹیم میں شامل کیا۔

اس وقت تک ویسٹ انڈیز کے لیے عقیل حسین، روستن چیز، خاری پیئر، گُڈاکیش موٹی اور الِک اتھناز باؤلنگ کر چکے ہیں۔ 28 اوورز کے اختتام پر بنگلہ دیش نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 96 رنز بنائے ہیں۔

مزید پڑھیں: ویسٹ انڈیز کے سابق آل راؤنڈر برنارڈ جولیئن 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

گزشتہ میچ میں بنگلہ دیش نے اسپن پر انحصار کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو 74 رنز سے شکست دی تھی جہاں نوجوان اسپنر رشاد حسین نے 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ امکان ہے کہ بنگلہ دیش اس میچ میں بھی اسپن کا سہارا لے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بولنگ میں صرف اسپنرز کا استعمال میرپور ڈھاکہ ون ڈے میں 5 اسپنرز ویسٹ انڈین ٹیم کا منفرد ریکارڈ ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بولنگ میں صرف اسپنرز کا استعمال میرپور ڈھاکہ ون ڈے میں 5 اسپنرز ویسٹ انڈین ٹیم کا منفرد ریکارڈ ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز نے کے درمیان بنگلہ دیش ون ڈے میں میچ میں

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی