27 اکتوبر کو عام تعطیل ہوگی یا نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: جیسے جیسے 27 اکتوبر قریب آ رہا ہے، یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آیا اس دن جو ہر سال کشمیر بلیک ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے، عام تعطیل کا اعلان کیا جائے گا یا نہیں؟
یہ دن بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر پر غیر قانونی تسلط کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے اور جنوبی ایشیا کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
تاہم، حکومتی سطح پر 27 اکتوبر کو عام تعطیل قرار نہیں دیا گیا، اس کے باوجود یہ دن پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کے لیے گہری قومی اور جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔
خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار
ہر سال اس موقع پر ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور اظہارِ یکجہتی کی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن میں بھارت کے مظالم کی مذمت اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی جاتی ہے۔
اگرچہ یہ دن سرکاری تعطیل نہیں، لیکن کشمیر بلیک ڈے کے طور پر 27 اکتوبر ہر سال بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قربانیوں اور پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی یاد تازہ کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔