پاراچنار، افغان جارحیت کے خلاف قبائل کی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
ریلی کے شرکا مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے، جہاں شرکاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے طوری بنگش قبائل کے عمائدین حاجی ضامن حسین، حاجی محمد یونس، ماسٹر امان علی، علامہ باقر حیدری نے افغانستان کے بلا اشتعال حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
پاراچنار، افغانستان کیجانب سے فائرنگ کے خلاف قبائل کی ریلی
پاراچنار، افغانستان کیجانب سے فائرنگ کے خلاف قبائل کی ریلی
پاراچنار، افغانستان کیجانب سے فائرنگ کے خلاف قبائل کی ریلی
پاراچنار، افغانستان کیجانب سے فائرنگ کے خلاف قبائل کی ریلی
پاراچنار، افغانستان کیجانب سے فائرنگ کے خلاف قبائل کی ریلی
پاراچنار، افغانستان کیجانب سے فائرنگ کے خلاف قبائل کی ریلی
پاراچنار، افغانستان کیجانب سے فائرنگ کے خلاف قبائل کی ریلی
پاراچنار، افغانستان کیجانب سے فائرنگ کے خلاف قبائل کی ریلی
اسلام ٹائمز۔ افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف پاراچنار میں قبائل نے احتجاجی ریلی نکالی، شرکاء ریلی نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاکر پاک فوج کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔ تفصیلات کے مطابق پاراچنار میں طوری بنگش قبائل نے افغانستان کی جانب سے جارحیت اور پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی۔ ریلی کے شرکا مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے، جہاں شرکاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے طوری بنگش قبائل کے عمائدین حاجی ضامن حسین، حاجی محمد یونس، ماسٹر امان علی، علامہ باقر حیدری نے افغانستان کے بلا اشتعال حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ افغانستان کی جانب سے ضلع کرم کے مختلف سویلین آبادی کو نشانہ بنانا قابل افسوس ہے، جس کی وہ بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں طوری بنگش اقوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، قبائل ہر قسم کی بیرونی جارحیت کے خلاف صف اول میں ہونگے اور دفاع وطن کے لئے قبائل ماضی کی طرح ہمہ وقت حاضر ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغانستان کی
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔