معروف بھارتی کامیڈین کپل شرما کے کینیڈا میں کیپس کیفے پر ایک بار پھر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کی ذمہ داری بشنوئی گینگ نے قبول کرلی۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب نامعلوم حملہ آوروں نے کیفے کی عمارت پر گولیاں چلائیں، خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، یہ واقعہ چار ماہ کے دوران تیسری بار پیش آیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق فائرنگ کی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کار میں موجود حملہ آور کیفے پر فائرنگ کرتے ہیں، جس سے عمارت کی کھڑکیاں چکناچور ہو جاتی ہیں۔

Once again incident of Firing Happened at KAP’S CAFE.

This is the third time firing took place at the Kapil Sharma cafe in Canada. pic.twitter.com/KoOYYBFNof

— Akashdeep Thind (@thind_akashdeep) October 16, 2025

میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کی ذمہ داری مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے تعلق رکھنے والے کولویر سدھو اور گولڈی ڈھِیلون نے قبول کی ہے، دونوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ ہمارا عام لوگوں سے کوئی مسئلہ نہیں، مگر جو ہمیں دھوکہ دیتے ہیں یا ہمارے مذہب کے خلاف بولتے ہیں، اُنہیں خبردار کیا جا رہا ہے، گولیاں کہیں سے بھی آ سکتی ہیں۔

پولیس کے مطابق حملے کی ممکنہ وجوہات مالی تنازع یا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنا ہو سکتی ہیں، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، سی سی ٹی وی ویڈیوز حاصل کر لی گئی ہیں جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی